BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 20 February, 2008 - Published 00:43 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ق لیگ ارکان کو نواز کی دعوت

 نواز شریف
’چودھری شجاعت نے واپس آنا ہے تو پہلے وہ قوم سے معذرت کریں اور قوم ہی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی‘
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے مسلم لیگ (ق) کے کامیاب اراکین کو اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دے کر صوبے میں ایک طرح سے جوڑ توڑ کی سیاست کے ایک مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر جیتنے والے اراکین کی مسلم لیگ ن میں واپسی کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ ان کی پیرنٹ پارٹی (بنیادی جماعت) ہے اور اس میں ان کی واپسی بسم اللہ‘۔

منگل کو نواز شریف کی جانب سے مسلم لیگ ق کے اراکین کو مسلم لیگ ن میں واپسی کی دعوت کے جواب میں چودھری شجاعت حسین نے جوابی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وہ اتحاد نہیں کرنا چاہتے۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ’اقتدار کا لالچ کرنے والوں کو پچھتانہ پڑتا ہے۔ہمارے لیے بہتر ہوگا کہ ہم ن لیگ کاحصہ بننے کی بجائے اپوزیشن میں رہ کر مقابلہ کریں‘۔

دھڑے بدلنے کی روایت
 مسلم لیگیوں کا ایک دھڑے سے دوسرے میں چلا جانا کوئی نئی بات نہیں۔ یہی کچھ اس سے پہلے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ کیا۔ پہلے میاں اظہر کی سربراہی میں ہم خیال دھڑا بنا اور بعد میں سب انہیں چھوڑ کر چودھریوں کے گرد اکٹھے ہوگئے کیونکہ اس وقت اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھ گیا تھا۔
چودھریوں کے بارے میں ان کے تحفظات ہیں۔الیکشن سےپہلے ایک ٹی وی چینل پر انہوں کہا کہ چودھری شجاعت نے واپس آنا ہے تو پہلے وہ قوم سے معذرت کریں اور قوم ہی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی دو سوستانوے میں سے ایک سو دس کے قریب نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کے بھی پینسٹھ کے قریب اراکین کامیاب ہوئے ہیں۔ آزاد امیدواروں کی تعداد پینتیس کے قریب ہے۔

یہ ممکن ہے کہ مسلم لیگ نون پنجاب میں پیپلز پارٹی سے شراکت اقتدار کی بجائے خود اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے اس صورت میں آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانا اور مسلم لیگ ق کے کامیاب امیدواروں کو چودھریوں سے بے وفائی پر اکسانا مسلم لیگ ن کے حربے ہوسکتے ہیں۔

مسلم لیگیوں کا ایک دھڑے سے دوسرے میں چلا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے، خاص طور پر پنجاب میں ایسے سیاستدانوں کی کمی نہیں جو اقتدارا کے پلڑے میں اپنے وزن ڈالنے کو ایک ’سمجھدارنہ سیاسی اقدام‘ قرار دیتے ہیں۔

یہی کچھ اس سے پہلے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ کیا۔ پہلے میاں اظہر کی سربراہی میں ہم خیال دھڑا بنا اور بعد میں سب انہیں چھوڑ کر چودھریوں کے گرد اکٹھے ہوگئے کیونکہ اس وقت اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھ گیا تھا۔

مختلف لوگ مسلم لیگ ق کی شکست کی مختلف وجوہات بیان کررہی ہیں لیکن سنیٹر طارق عظیم کہتے ہیں کہ نواز شریف فیکٹر مسلم لیگ ق کی ہار کا سبب بنا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے اب تک کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے پچھتر سے زیادہ ووٹ ہیں اور مسلم لیگ نون اگر چاہے تو اسے ساتھ ملا کر باآسانی حکومت بنا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اس صورت میں بھی مسلم لیگ ق کو کمزور کرنے کے لیے ان کے کامیاب امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانا مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

الیکشن سے صرف ایک روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا بے وفائی کرنے والے مسلم لیگ ق کے اراکین کو ساتھ ملانا درست اقدام ہوگا تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا کہ ’توبہ تو اللہ کو بھی پسند ہے‘۔

الیکشن کمیشن’الیکشن 2008‘
قبل از الیکشن عمل غیرمنصفانہ: مبصرین
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد