ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں مشترکہ طور پر اکثریت حاصل کر لی ہے اور خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر تقسیم سے دونوں جماعتیں باآسانی مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گی۔ توقع ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ چند روز میں انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان کر دے گا جس کے تین روز کے اندر اسے خواتین اور اقلیتیوں کی مخصوص نشستوں کا فیصلہ اور اعلان کرنا ہوگا۔ پارلیمان میں تین سو بیالیس نشستوں پر مشتمل ایوان زیریں میں آخری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی اٹھاسی نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب سے قومی اسمبلی کی پینتالیس، سندھ سے انتیس، سرحد سے نو اور بلوچستان سے چار نشستیں جیتی ہیں۔ ان نشستوں کی بنیاد پر اس جماعت کو خواتین کی مخصوص نشستوں میں بائیس جبکہ تین اقلیتی نشستیں ملنے کی امید ہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی میں مجموعی طاقت ایک سو تیرہ نشستوں تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔ بےنظیر بھٹو کے حلقے میں ابھی انتخاب ہونا باقی ہے اور یہ نشست کس کے پاس جائے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرنے والی مسلم لیگ (نواز) کے پاس اس وقت سڑسٹھ نشستیں ہیں جن میں سے اسے پنجاب میں ساٹھ، سندھ میں ایک، سرحد میں چار اور اسلام آباد میں دو سیٹیں ملی ہیں۔ اس تناسب سے اسے خواتین کی سولہ اور اقلیتوں کی دو نشستیں مل سکتی ہیں اور یوں مسلم لیگ (ن) کو ایوانِ زیریں میں کل ملا کر پچاسی نشستیں ملنے کی امید ہے۔ قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے ایک سو بہّتر نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں جماعتیں اگر مخلوط حکومت تشکیل دینے پر آمادہ ہوتی ہیں تو ان کی مشترکہ نشستوں کی تعداد سادہ اکثریت سے کہیں زیادہ یعنی ایک سو اٹھانوے ہو جائے گی۔ بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ شامل ہونے سے یہ تعداد کافی اطمینان بخش حالت تک بڑھ سکتی ہے۔ تاہم دو تہائی اکثریت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو دو سو اٹھائیس اراکین کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ فی الحال تو صدر پرویز مشرف نے دونوں جماعتوں کی جانب سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے لیکن اگر دونوں جماعتیں صدر پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے عدالت عظمی کی بجائے پارلیمان کو استعمال کرنا چاہیں گی تو انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں دو تہائی اکثریت ظاہر کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے رابطوں کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تاہم آئندہ چند روز میں واضح ہو جائے گا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مخلوط حکومت میں عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ مزید کون سی جماعتیں یا آزاد امیدوار حصہ بننے پر رضامند ہوں گے۔ |
اسی بارے میں ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت 20 February, 2008 | الیکشن 2008 دھاندلی کا الزام، کامیاب کو مبارکباد20 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||