دھاندلی کا الزام، کامیاب کو مبارکباد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا انتخابی نتائج مفاہتی آرڈیننس کے تابع نظر آرہا ہے، الیکشن میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے لیکن انتخابی نتائج سےہارنےوالوں سے جیتنےوالے زیادہ حیران ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے اورخود ان کے حلقہ انتخاب میں دھاندلی کے ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں۔ فضل الرحمان نےکہا کہ وہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرتے ہیں اور اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو مبارکباد دیتے ہیں۔ الیکشن کمشن آف پاکستان کے مطابق ان انتخابات میں ریکارڈ ٹرن اوور رہا ہے اور چھیالیس فیصد افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ سابق قائد حزب اختلاف نے ووٹ ڈالے جانے کے غیر معمولی زیادہ تناسب پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بیس فی صدٹرن آؤٹ کو ماضی سے زیادہ دکھایا جارہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بنوں کی سیٹ جیت گئے ہیں البتہ ڈیرہ اسماعیل خان والی سیٹ سے ہار گئے۔ انہوں نےکہاکہ پچھلی بار وہ اڑتالیس ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، اس بار ان کے مدمقابل نے اسی ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے ہیں اور خود ان کے بھی چالیس ہزار ووٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی خفیہ ہاتھ نے کام دکھایا ہے اور جلد حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے۔ اپنے امیدواروں کی بڑی تعداد میں شکست کے باوجود مولانا فضل الرحمان نے جے یوآئی کے انتخابات میں حصہ لینے کو درست اقدام قرار دیا اور کہا کہ اے پی ڈی ایم کے بائیکاٹ کی اپیل پر کسی نے کان نہیں دھرا۔ | اسی بارے میں ’بات فضل الرحمان کے ذریعے ہوگی‘15 February, 2008 | پاکستان بی بی کے بعد سرحد میں پیپلز پارٹی07 January, 2008 | پاکستان شجاعت، رشید، اعجازالحق کی ہار18 February, 2008 | پاکستان مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’کسی سے اتحاد نہیں کریں گے‘19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’پاکستان بچانا ہےتو فوج کو جانا ہے‘12 February, 2008 | پاکستان ’جدو جہد اٹھارہ فروری کے بعد بھی‘03 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||