BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 February, 2008, 22:21 GMT 03:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بات فضل الرحمان کے ذریعے ہوگی‘

فضل الرحمان
مولانا عبدالعزیز نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے:فضل الرحمان
لال مسجد کے سابق خطیب مولوی عبدالعزیز نے اپنی رہائی اور دیگر معاملات پر حکومت سے مذاکرات کے لیے مولانا فضل الرحمان کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔

لال مسجد کے ترجمان عامر صدیقی نے بی بی سی اردو آن لائن کو بتایا کہ ’ہم نے علماء کی مشاورت سے مولانا فضل الرحمان کا نام تجویز کیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کریں‘۔

ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ’ہم یہ چاہتے تھے کہ مولانا فضل الرحمان اڈیالہ جیل میں قید مولوی عبدالعزیز سے ملاقات کریں تاکہ ان کو یہ اندازہ ہو کہ لال مسجد کے سابق خطیب کے ذہن میں کیا ہے اور اس کے بعد جمیت علماء اسلام کے سربراہ نے حال ہی میں عبدالعزیز سے جیل میں ملاقات کی‘۔

عامر صدیقی کے مطابق مولوی عبدالعزیز نے مولانا فضل الرحمان کو مکمل اختیار دیا کہ وہ ان کی رہائی، جامعہ حفصہ کی نئے سرے سے تعمیر اور جامعہ فریدیہ کی بحالی جیسے امور کے حل کے لیے حکومت سے مذاکرات کریں‘۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’مولوی عبدالعزیز کے خاندان کے لوگ اور بعض علماء ایک ماہ قبل ڈیرہ اسمعیل خان میں میرے گھر پر آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ معاملات کو حال کرانے میں اپنا کردار ادا کروں‘۔

مولانا عبدالعزیز اڈیالہ جیل میں قید ہیں

انہوں نے کہا کہ’اس کے بعد میں نے وزارت داخلہ کے حکام سے رابطہ کیا اور انہوں نے یہ تجویز دی کہ میں پہلے مولوی عبدالعزیز کے ساتھ خود بات کروں اور یہ معلوم کروں کہ یہ بات چیت کن خطوط پر ہوگی‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں نے مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کی اور انہوں نے مجھ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی‘۔

انہوں نے کہا کہ’ابھی گفتگو ابتدائی مرحلے میں ہے اور انتخابی مصروفیات کے باعث یہ ممکن نہیں کہ اگلے چند روز میں اس پر کوئی پیش رفت ہو‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ’انتخابات کے بعد دوستوں کے مشاورت سے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا اور ہم چاہیں گے تمام معاملات عزت و وقار سے ساتھ حل ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ وہ فی الوقت یہ نہیں بتاسکتے کہ کن امور پر بات ہوگی البتہ جب بات چیت ہوگی تو اس میں جامعیہ فریدیہ کی بندش، جامعیہ حفصہ کا انہدام اور دیگر نقصانات زیر بحث آسکتے ہیں‘۔

مولانا فضل الرحمان نے اس کی سختی سے تردید کی کہ لال مسجد کے واقعہ کے باعث انہیں انتخابی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ ہمیں انتخابات میں مشکلات آ رہی ہیں لیکن یہ تاثر بالکل غلط ہے‘۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے کہا کہ’ یہ ایک انسانی معاملہ ہے اور بہت سارے خاندان لال مسجد کے واقعہ میں متاثر ہوئے ہیں اور بہت بڑا ظلم ہوا ہے اور یہ کہ اس کا ازالہ کیسے ہوگا فی الوقت وہ کچھ نہیں کہ سکتے ہیں تاہم اگر کوششیں کی جائی تو کوئی نہ کوئی راستہ نکلے گا‘۔

اسی بارے میں
لال مسجد میں نماز کی اجازت
03 October, 2007 | پاکستان
2007ء کیسا رہا
27 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد