لال مسجد میں نماز کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد تین ماہ کی بندش کے بعد بدھ کے روز باضابطہ طور پر نمازیوں کے لیے کھول دی گئی۔ لال مسجد جولائی میں فوجی کارروائی کے بعد سے مسلسل بند تھی۔ فوجی کارروائی میں مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی اور گیارہ فوجیوں سمیت سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے جب مسجد کو تعمیرو مرمت کے بعد جولائی کے آخری ہفتے میں دوبارہ کھولا تو جامعہ فریدیہ کے طلباء نے مسجد کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد مسجد کو دوبارہ سیل کر کے پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔ فوجی کارروائی کے بعد لال مسجد کی صفائی اور آرائش کے دوران اس کی دیواروں اور میناروں پر سفیدی مائل رنگ کر دیا گیا تھا اور مسجد کے باہر لال مسجد کی جگہ مرکزی جامعہ مسجد جی سِکس کا بورڈ لگا دیا گیا تھا۔ تاہم منگل کو سپریم کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ لال مسجد کو بدھ سےدوبارہ کھول دیا جائے۔ عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بھی حکم دیا تھا کہ ایک سال کی مدت میں منہدم کیے گئے جامعہ حفصہ کی جگہ ایک مدرسہ تعمیر کیا جائے۔ عدالت نے جامعہ فریدیہ کے مہتمم مولانا عبدالغفار کو عارضی طور پر لال مسجد کا خطیب مقرر کیا تھا جبکہ مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے عامر صدیق کو نائب خطیب مقرر کیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران لاپتہ ہونے والے چار افراد کے رشتہ داروں نے آبپارہ تھانہ میں نامعلوم افراد کے خلاف اغواء کے مقدمے درج کرائے ہیں۔ | اسی بارے میں لال مسجد دوبارہ کھولنےکا حکم02 October, 2007 | پاکستان پر امن فضا میں بارود 02 October, 2007 | پاکستان ’پارلیمنٹ نے بیساکھیاں دیں‘24 September, 2007 | پاکستان اسامہ سے منسوب مشرف مخالف بیان20 September, 2007 | پاکستان لال مسجد: مذاکرات تعطل کا شکار15 September, 2007 | پاکستان لال مسجد کے لیے عدالت سے رجوع07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||