اسامہ سے منسوب مشرف مخالف بیان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سے منسوب ایک نئے بیان میں پرویز مشرف کی حکومت کے خاتمے کی اپیل کی گئی ہے۔ اسامہ بن لادن کے نام سے مذکورہ بیان آڈیو ٹیپ کے ذریعے نشر کیا گیا۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں اسامہ بن لادن کے نام سے جاری ہونے والی یہ تیسری ٹیپ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب بھی با اثر ہیں۔ اسامہ بن لادن سے منسوب بیان کا مین امریکہ میں دہشت گردی کے امور کی ماہر لارا مینزفیلڈ نے جاری کی۔ مینزفیلڈ انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی کارروائیوں پر نظر رکھتی ہیں۔ نئی آڈیو ٹیپ میں پاکستانی سکیورٹی حکام کی جانب سے لال مسجد کے خلاف کارروائی کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ پاکستانی حکام نے اس ٹیپ کے جواب میں کہا ہے کہ ان کو اپنا کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا اور وہ ’دہشتگردوں کا تعاقب جاری رکھیں گے‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جو بھی اپنی مرضی سے اور جانتے بوجھتے پرویز مشرف کی مدد کرے گا وہ بھی ان کی طرح کافر ہو جائے گا‘۔ اسامہ بن لادن سے منسوب بیان میں اس سے پہلے بھی مشرف حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کیا جا چکا ہے۔ اسامہ بن لادن کے نام سے جاری ہونے والےاس بیان سے پہلے ہی مبینہ طور پر طالبان کے حمایتی شدت پسندوں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں سرکاری اہلکاروں کا اغوا اور خودکش حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ اسلام قبول کرلے: اسامہ07 September, 2007 | آس پاس اسامہ کی وڈیو کے اقتباسات08 September, 2007 | آس پاس میڈیا کے ماہر کا پیغام09 September, 2007 | آس پاس ’القاعدہ ٹوٹنے کے بجائے زیادہ منظم‘11 September, 2007 | آس پاس اسامہ کے سر کی قیمت دوگنی14 July, 2007 | آس پاس اُسامہ کہاں، معلوم نہیں: ملا عمر04 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||