میڈیا کے ماہر کا پیغام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین سال کی غیر حاضری کی کسی وضاحت کے بغیر اسامہ بن لادن کی ایک تیس منٹ دورانیے کی ویڈیو ایک اسلامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔ آخری مرتبہ ان کی ایک ویڈیو اکتوبر سنہ دو ہزار چار میں منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے انتخابات سے پہلے امریکی عوام کو مخاطب کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے جنوری دو ہزار چھ میں بھی ایک صوتی پیغام دیا تھا جو کہ ایک دوسری ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کی چھٹی برسی سے کچھ ہی دن قبل آنے والی اس ویڈیو سے ان افواہوں کا خاتمہ ہو جائے گا کہ اسامہ کچھ عرصہ قبل انتقال کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے دوستوں اور دشمنوں دونوں کو یہ پیغام پہنچ گیا ہے کہ وہ شخص جس کے سر کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر ہے ابھی تک زندہ ہے۔ حالیہ ویڈیو پر پہلی ہی نظر میں پچاس سالہ اسامہ بن لادن، جنہیں ان کے جہادی پیروکار ابو عبداللہ کے نام سے جانتے ہیں، دو ہزار چار کی ویڈیو کے مقابلے میں جوان دکھائی دیتے ہیں۔
ان کی تراش خراش سے عاری داڑھی، جو کافی سفید ہو چکی تھی، غائب ہو چکی ہے اور اس کی جگہ زیادہ گھنی، سیاہ اور صاف ستھری داڑھی نے لے لی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے انہوں نے داڑھی کا رنگ نہیں بدلا بلکہ ہو سکتا ہے یہ نقلی ہو اور پہچانے جانے سے بچنے کے لیے انہوں نے اصل میں داڑھی منڈھوا دی ہو۔ جہاں تک القاعدہ کے رہمنا کے چہرے کا تعلق ہے تو وہ اب بھی اتنا ہی شکن زدہ اور تھکا ہوا دکھائی دیتا جو کسی بھی ایسے مفرور کا ہونا چاہیئے جسے تقریباً ہر رات کسی نئی جگہ پر سونا پڑتا ہو، لیکن پھر بھی ان کا چہرہ اتنا پریشان نہیں لگتا جتنا تین سال قبل دکھائی دیا تھا۔ اس ویڈیو میں بھی انہوں نے سر پر وہی کلاہ باندھی ہوئی ہے اور سعودی عرب کا مخصوص لمبی آستینوں والا سفید کرتا پہنا ہوا ہے۔ کُرتے کے اوپر وہ کریم رنگ کا چغہ لیے ہوئے ہیں جو عرب دنیا میں شیخ، قبائلی سردار اور مذہبی رہنما اوڑھتے ہیں۔ وڈیو کا مقام عرب ذرائع ابلاغ اور مغربی خفیہ اداروں کے ماہرین نے پہاڑوں والی ویڈیو کا باریکی سے مطالعہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس میں جو علاقہ دکھائی دے رہا تھا وہ پاکستان اور افغانستان کی درمیانی سرحد کا علاقہ تھا۔
ان کے قریبی ساتھیوں کے علاوہ اگر کسی کو اسامہ بن لادن کی آخری جھلک دیکھنے کوملی تھی تو وہ اس وقت تھی جب سنہ دو ہزار ایک میں وہ تورا بورا کے اپنے محفوظ ٹھکانے سے فرار ہو رہے تھے۔ ایک بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ وہ تورا بورا سے مشرق کی جانب نکل گئے تھے جہاں سے وہ سرحد پار پاکستان چلے گئے تھے جہاں مقامی پشتون قبائل ان کی میزبانی کو تیار تھے۔ یہ قبائل طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں اور جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں قائم اپنی حکومت کے خلاف ہیں۔ اسامہ بن لادن طویل قامت اور مخصوص خد و خال کے مالک شخص ہیں لہٰذا س بات کے امکانات نہایت کم ہیں کہ وہ کراچی جیسے شہر کے بازار میں نکل جائیں اور کوئی انہیں پہچان نہ سکے۔ یہ ویڈیو نہ صرف گیارہ ستمبر کے حملوں کی چھٹی برسی پر سامنے آئی ہے بلکہ یہ ایک ایسا وقت بھی ہے جب امریکی عوام میں عراق میں جنگ اور ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے نعروں سے متعلق شکوک بڑھ رہے ہیں اور ان کی توجہ اگلے سال کے صدارتی انتخابات کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو پر بھی ’الشہاب پروڈکشن‘ کا نام ہے جو کہ القاعدہ کا وڈیو بنانے کا شعبہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ شعبہ پاکستان میں ہے لیکن ویڈیو فلم میں ریکارڈنگ کا وقت یا تاریخ نہیں دی ہوئی۔ منقسم کرنے والے پیغامات اپنے ماننے والوں کو یہ یقینی دہانی کرانے کے علاوہ کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں، اس ویڈیو کے بنیادی مخاطب امریکی عوام ہیں جن کو اسامہ کا کہنا ہے وہ ’عراق میں جنگ ختم کرنے کے لئے‘ اسلام قبول کر لیں۔ اسامہ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکی رائے دہنگان نے دوسری مرتبہ صدر جارج بش کا انتخاب کر کے انہیں ’ اپنی جانب سے عراق اور افغانستان میں ہمارے لوگوں کو قتل کرنے کا واضح اختیار دیا۔‘ اسامہ کا کہنا ہے کہ عراق میں صورتحال ’ہاتھ سے نکل رہی ہے اور صدر بش کا حال ’اس شخص جیسا ہے جو سمندر میں ہل چلاتا ہے اور بیج بوتا ہے اور آخر میں ناکامی کی فصل کے علاوہ کچھ نہیں کاٹتا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر بش کی اس پالیسی نے امریکہ کو اقتصادی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ انیس سو چھانوے اور دو ہزار ایک کے درمیان اسامہ بن لادن جہاں بھی رہے انہیں عالمی ذرائع ابلاغ میں بہت دلچسپی رہی اور اس دوران مغربی نامہ نگاروں کو بھی انہیں سوڈان میں انٹرویو کرنے کے مواقع ملے۔ القاعدہ کے کچھ کٹڑ شدت پسندوں کے برعکس اسامہ بن لادن کی کوشش اکثر یہ رہی ہے کہ مغربی عوام کی رائے کو تبدیل کیا جائے۔ ان کو امید ہوتی ہے کہ وہ مغربی عوام اور ان کے رہنماؤں اور یورپ اور امریکہ کو منقسم کر سکتے ہیں۔ دو ہزار چار کے میڈرڈ بم دھماکوں اور پھر امریکی انتخابات سے پہلے کی ویڈیو میں بھی ان کی یہی حکمت عملی کارفرما نظر آئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||