BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن

ووٹنگ
ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ انیس سو ستر کے انتخابات میں پڑے تھے
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کے عام انتخابات میں تقریباً چھیالیس فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں، جو ووٹ ڈالنے کی انیس سو نوے کے بعد سب زیادہ شرح ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی بڑی وجہ ذرائع ابلاغ کا کردار ہے جس نے لوگوں کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا اور لوگ کود پڑے۔

الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اٹھارہ فروری کو 45 عشاریہ 67 فیصد ووٹ پڑے جبکہ انیس سو نوے میں ووٹ ڈالنے کی شرح 45 اعشاریہ 46 فیصد تھی۔

ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ انیس سو ستر کے انتخابات میں پڑے تھے جب 57 عشاریہ 96 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ اس کے بعد سے ووٹ ڈالنے کی شرح میں کمی ہوتی رہی ہے۔

سال دو ہزار پانچ کے بلدیاتی انتخابات میں عوامی شرکت قدرے زیادہ ہوتی تھی، لہذا ووٹر ٹرن آوٹ سینتالیس فیصد رہا تھا۔

سیاسی پنڈتوں کے خدشات
 سیاسی پنڈتوں کو خدشہ تھا کہ امن عامہ کی مخدوش صورتحال اور سیاسی عمل سے بےزاری دو ایسی بڑی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ووٹروں کی بڑی تعداد شاید پولنگ سٹیشنوں کا رخ نہ کرے

سیاسی پنڈتوں کو خدشہ تھا کہ امن عامہ کی مخدوش صورتحال اور سیاسی عمل سے بےزاری دو ایسی بڑی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ووٹروں کی بڑی تعداد شاید پولنگ سٹیشنوں کا رخ نہ کرے۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی بائیکاٹ مہم کا اثر بھی ووٹر ٹرن آوٹ پر ہونے کا امکان موجود تھا۔ اے پی ڈی ایم اور وکلاء مہم کی وجہ سے بائیکاٹ کا زیادہ اثر بلوچستان میں دیکھا گیا ہے۔

انتخابی کمیشن کے سیکرٹری کے مطابق بلوچستان میں ہمیشہ ووٹر کم تعداد میں پولنگ سٹیشن گئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انیس سو ستانوے میں بلوچستان میں صرف پانچ فیصد ووٹ پڑے تھے تاہم اس مرتبہ یہ تعداد 31 عشاریہ 44 فیصد رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد مزید بڑھ بھی سکتی ہے کیونکہ چھ حلقوں میں ابھی گنتی جاری ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ کمیشن نے انتخابات منعقد کروا کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ انہوں نے انتخابی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا اور تعریف کی۔ کنور دلشاد نے امید ظاہر کی کے ان انتخابات کے نتیجے میں ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔

اسی بارے میں
فاٹا میں دس سیٹوں پر الیکشن
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد