ابتدائی نتائج تیر اور آزاد کی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات دو ہزار آٹھ کے اب تک قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے نتائج موصول ہوئے ہیں جن میں ایک پاکستان پیپلز پارٹی اور دو میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ چیف الیکشن کمیشن نے اب تک قبائلی علاقے سے قومی اسمبلیوں کی دو نشستوں اور بلوچستان اسمبلی کی ایک نسشت کا باضابط اعلان کیا۔ ان غیر حتمی نتائج کے مطابق قبائلی علاقے کی دونوں قومی اسمبلی آزاد ذرائع سے موصول ہونے والا پہلا غیرسرکاری نتیجہ صوبہ سرحد کے اپر دیر علاقے سے آیا جس میں پیپلز پارٹی کے نجم الدین تیرہ ہزار چھ سو چھتیس ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔ قبائلی علاقے باجوڑ سے این اے تینتالیس نواگئی سے آزاد امیدوار شوکت اللہ خان کو سات ہزار چار سو اٹھائیس ووٹوں سے کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔ باجوڑ سے ہی دوسری قومی اسمبلی نشست این اے چوالیس سے آزاد امیدوار سید اخوندزادہ چٹان چھ ہزار دو سو ستاون ووٹوں کے ساتھ کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان کو شکست دی ہے۔ پنجاب اسمبلی سرحد اسمبلی بلوچستان اسمبلی بلوچستان اسمبلی حلقہ پی بی پینتیس خضدار تین سے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے امیدوار ظفراللہ پانچ ہزار اڑتالیس ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ آزاد امیدوار میر مقصود احمد ایک ہزار چھ سو تینتیس ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ باقی حلقوں سے نتائج موصول ہو رہے ہیں اور غیر مصدقہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تیر اور شیر آگے ہیں جبکہ حمکراں مسلم لیگ کے امیدوار پیچھے ہیں۔ |
اسی بارے میں پنجاب: کم ووٹر، آٹھ ہلاک18 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ: پولنگ پرامن رہی18 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||