نہ مشرف نہ مُلا اور نہ مسلم لیگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات سے بظاہر لگتا ہے کہ عوام نے تیر، شیر اور لالٹین کو بھاری تعداد میں ووٹ دے کر مشرف، مُلا اور مسلم لیگ پر عدم اعتماد ظاہر کردیا ہے۔ اٹھارہ فروری کو پولنگ کے دن پرتشدد واقعات میں تیس افراد مارے گئے جس میں سے پندرہ کے بارے میں پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے کارکن ہیں۔ تیس انسانوں کی جانوں کا ضیاع کوئی کم نقصان تو نہیں لیکن یہ بھی اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ جتنا خوف اور کشیدگی کا ماحول تھا اس کی نسبت تشدد کم ہوا۔ سرکاری سطح پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کو روکنے اور امن امان قائم رکھنے کا کریڈٹ صدر پرویز مشرف کو ہی جاتا ہے، چاہے اس کے پس پردہ محرکات کچھ بھی ہوں۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس کا ایک اہم پہلو آرمی چیف کا عہدہ صدر پرویز مشرف کے پاس نہ ہونا بھی ہے۔ پاکستان کے پارلیمان میں دو سو بہتر عمومی نشستیں ہیں اور اٹھارہ فروری کو دو سو اڑسٹھ نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے، کیونکہ چار نشستوں پر امن عامہ اور انتخابی مرحلے کے دوران امیدواروں کی وفات کی وجہ سے پولنگ بعد میں ہوگی۔ تاحال غیر سرکاری نتائج کے مطابق مختلف جماعتوں کی تاحال جیتی ہوئی نشستوں اور ان کے انتخابی نشان کچھ اس طرح ہیں۔ پیپلز پارٹی (تیر) پچاسی، مسلم لیگ نواز (شیر) تریسٹھ، پاکستان مسلم لیگ قاف (سائیکل) چھتیس، ایم کیو ایم (پتنگ) انیس، عوامی نیشنل پارٹی یعنی اے این پی (لالٹین) دس ، جبکہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے (کتاب) دو نشستیں ملی ہیں جبکہ بائیس آزاد امیدوار جیتے ہیں۔ دو سو بہتر عمومی نشستیں جیتنے والی جماعتوں کے درمیاں سیٹوں کے تناسب سے خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص ستر نشستیں تقسیم ہونی ہیں۔ پیپلز پارٹی اگر پچانوے عمومی نشستیں بھی جیتتی ہے تو ستر میں سے پچیس مخصوص نشستیں انہیں مل سکتی ہیں اور تین سو بیالیس نشستوں والے قومی اسمبلی کے ایوان میں پیپلز پارٹی کو ایک سو بیس سے پچیس نشستیں مل سکتی ہیں۔
پیپلز پارٹی کو اتنی تعداد میں کبھی بھی نشستیں حاصل نہیں ہوئیں اور اس بارے میں تو خود پیپلز پارٹی والے بھی مانتے ہیں کہ ان کی لیڈر بینظیر بھٹو اپنی موت کے بعد بھی اپنی پارٹی کو جتوا گئیں۔ عددی اعتبار سے دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) ہے اور انہیں اتنی زیادہ تعداد میں عوام نے ووٹ دے کر بیشتر سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کو ششدر کردیا ہے۔ اب بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کو ججوں کی بحالی کے معاملے پر واضح موقف اختیار کرنے کا صلا ملا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو راولپنڈی اور اسلام آباد سے جس طرح نواز لیگ نے جھاڑو پھیرا ہے اس میں ججوں کی بحالی کا عنصر واضح نظر آرہا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد سے مسلم لیگ(ن) کی جیت اور پیپلز پارٹی کی ہار کے بارے میں تو ان کی قیادتیں بھی حیران ہیں۔ بھر حال ابھی پوری طور پر تو نتائج بھی نہیں آئے لیکن سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوگیا ہے۔ ویسے تو سیاسی جوڑ توڑ میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو چئمپین مانا جاتا ہے لیکن اب کی بار ان کے لیے حکومت سازی ایک بڑے چیلینج سے کم نہیں ہوگی۔ ماضی میں تو کسی کو ہاتھ جوڑ کر، کسی کے گھٹنے چُھو کر، کسی کو وزیر تو کسی کو مشیر بنانے کا وعدہ کرکے پٹانے کے فن میں زرداری گُرو ہے۔ لیکن اب کی بار انہیں اپنی جماعت سے جہاں وزیراعظم کی نامزدگی کرنے اور دیگر چھوٹے موٹے گروہوں سے سمجہوتہ کرنا ہے وہاں ججوں کی بحالی کا بلند و بانگ دعویٰ کرنے والے میاں نواز شریف کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بھی منانا ہوگا۔ نواز شریف کے ساتھ ججوں کی بحالی پر اگر زرداری اتفاق کرتا ہے تو وہ صدر پرویز مشرف کو گالی دینے کے برابر ہوگا اور ایسے میں حکومت سازی کھٹائی میں پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا اس بارے میں بظاہر لگتا ہے کہ کوئی درمیانہ راستہ نکالنا ہوگا، جس سے سب کے لیے وِن وِن صورتحال نظر آئے۔ اس بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ دیگر برطرف جج بحال کیے جائیں اور افتخار محمد چودھری قومی مفاد میں قربانی دیں اور انہیں چیف الیکشن کمشنر یا کوئی اور اہم عہدہ پیش کیا جائے۔ لیکن ایسے میں اعتزاز احسن اور وکلاء نمائندؤں کا کردار اہم ہوگا۔
بھر حال اٹھارہ اکتوبر کے عام انتخابات کے نتائج جہاں ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہیں وہاں غیر ملکی مبصر بھی مطمئن ہیں۔ عالمی مبصرین پاکستان کے قدامت پسند سوچ کے حامل صوبہ سرحد میں ملاؤں کے بڑے پیمانے پر ناکامی، پیپلز پارٹی اور عوامی نشنل پارٹی سمیت بعض سیکولر سوچ کے حامل آزاد امیدواروں کی کامیابی پر بے حد خوش ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو قبائلی علاقہ جات میں شورش اور مار دھاڑ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور امریکہ سمیت مغرب کے خلاف غم و غصہ بھی برقرار ہے۔ لیکن ایسے میں تاحال سامنے آنے والے نتائج سن دو ہزار دو کے انتخاب کے بالکل برعکس ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں سمیت پاکستان بار کونسل نے بھی اٹھارہ فروری کے انتخابات کو صدر پرویز مشرف کے خلاف ایک ریفرینڈم قرار دیا ہے۔ بار کونسل نے صدر پرویز مشرف سے مستعفی ہونے اور برطرف ججوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||