BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد
مشاہد حسین
مشاہد حسین کی پارٹی صدر مشرف کو وردی میں دس مرتبہ صدر منتخب کرنے کی بات کرتی تھی
سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے سکریٹری جنرل نے عام انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرلی ہے جبکہ صدر مشرف کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کسی کی ذات سے بالا تر ہو کر سیاست کرے گی۔

مسلم لیگ ق کی انتخابی ناکامی پر بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی حکومت سے فاش غلطیاں ہوئیں جس کا نتیجے میں عوام نے انہیں مسترد کر دیا۔

تاہم انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں میڈیا چلا رہا تھا کہ دھاندلی ہو گی ’اللہ کا شکر ہے پاکستان کی تاریخ کا ایک عمدہ اور بہترین ایماندارانہ اور شفاف انتخاب ہوا ہے۔

انتخاب کے دن گجرات اور دوسرے مقامات پر دھاندلیوں کے واقعات پر انہوں نے کہا کہ ’اکا دکا لوگوں کی شکائتیں ہوں گی۔‘ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر عام انتخابات شفاف اور ایماندارانہ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک تاریخی دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ایک تو لوگوں کی چاہت تبدیلی کے لیے۔۔۔ اور پچھلے چھ آٹھ ماہ سے سیاسی غلطیاں جو حکومت کی طرف سے ہوئیں اس کا رگڑا ہمیں بھگتنا پڑا ہے۔ آخری رگڑا ہمیں آٹے اور بجلی کے بحران کا ملا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ان غلطیوں میں عدلیہ کا بحران، ایمرجنسی اور میڈیا سے پنگا شامل ہیں۔

مشاہد حسین نے کہا کہ ’میں نے اور کچھ اور کابینہ کے ممبران نے کہا تھا کہ ہمیں عدلیہ اور میڈیا سے پنگا نہیں لینا چاہیے۔ میں اور شجاعت صاحب صدر صاحب کے پاس بھی گئے تھےاور کہا کہ عدلیہ کے خلاف آپ کا اقدام غلط ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اکتیس اکتوبر کو انہوں نے بیان دیا تھا کہ ایمرجنسی نہ لگائیں اس کا نقصان حکومت کو بھی ہوگا اور ملک کی ساکھ بھی متاثر ہو گا۔

انتخابات سے اپنی توقع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دو ماہ سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ پارٹی کوحزب اختلاف میں بیٹھنے کی تیاری کرنی چاہیے۔

لال مسجد اور بلوچستان آپریشن پر انہوں نے کہا لال مسجد کا فائدہ میاں نواز شریف نے اٹھایا اور اس کا نقصان حکمران جماعت کو ہوا۔

آئندہ لالحۂ عمل پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہماری سیٹیں آئی ہیں اور بلوچستان میں وہ حکومت بنانے کے قابل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ حزب اختلاف کا کردار ادا کریں گے۔

صدر مشرف کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ ہم کسی کی ذات سے بلا تر ہو کر سیاست کریں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد