BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 February, 2008, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کے لیے کمر توڑ نتائج

میاں نواز شریف
انتخابات میں نون لیگ نے غیر متوقع نتائج حاصل کیئے ہیں
اب تک سامنے آنے والے انتخابی نتائج سے دکھائی دے رہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ صدر مشرف کی بڑی حامی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق جڑ سے اکھڑ گئی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی مسلم لیگ، جسے انہوں نے انیس سو ننانوے کے شب خون میں طاقت سے محروم کیا تھا، کے غیر متوقع طور پر ابھر کر سامنے آنے پر بھی صدرِ پاکستان پریشانی سے دوچار ہوں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی فی الوقت بڑے فاتحین ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف سے بہت بری کارکردگی دیکھنے کو ملی ہے اور وہ اب تک تیسرے نمبر پر ہے۔

نون لیگ اور پیپلز پارٹی انتخابات سے قبل مذاکرات کرتے رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ دونوں جماعتیں مل کر ایک مضبوط اتحاد والی حکومت بنائیں۔

صدر مشرف کے عدلیہ کے ساتھ سلوک اور گزشتہ نومبر میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے خلاف نواز لیگ نے کھل کر آواز بلند کی۔ عین ممکن ہے کہ ایسی اتحادی حکومت سامنے آئے جو صدر مشرف کو اقتدار سے ہٹانے یا انہیں حکومت توڑنے کے آئینی اختیار سے محروم کرنے کے لیے مطلوبہ پارلیمانی اکثریت حاصل کر لے۔ خود کو محفوظ رکھنے لیے صدر کی کوشش ہو گی کہ وہ پی پی پی اور نواز لیگ کا اتحاد نہ بننے دیں۔

صدر مشرف
تجزیہ نگار ان انتخابات کو صدر مشرف کے خلاف ریفرینڈم قرار دے رہے ہیں

موجودہ صورتحال میں صدر کی ترجیح پی پی پی کے ساتھ ہاتھ ملانا ہو گی کیونکہ پی پی پی نے ان کی پالیسیوں کے خلاف زیادہ سختی نہیں دکھائی لیکن ایسی صورت میں نون لیگ کو نظرانداز کیا جانا ضروری ہو گا۔

نون لیگ کے بغیر پی پی پی کو حکومت بنانے کے لیے مضبوط اتحاد کی ضرورت ہو گی اور اب تک کے نتائج کے مطابق ق لیگ ایسا کردار ادا کرنے سے محروم نظر آ رہی ہے۔

صدر مشرف کی ایک اور حمایتی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بظاہر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے۔ لیکن محدود حمایت رکھنے والی یہ علاقائی جماعت بھی حکومت میں رہنے کے باوجود ق لیگ کی طرف سے لگائے گئے زخموں پر مرہم کا کام نہ دے سکی۔

کئی تجزیہ نگار ان انتخابات کے نتیجے کو صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ایک ریفرینڈم قرار دے رہے ہیں۔

ناصرف مسلم لیگ ق کا صفایا ہو گیا ہے بلکہ صوبہ سرحد کی مضبوط مذہبی جماعت متحدہ مجلسِ عمل کو بھی اپنے ہی علاقے میں بری شکست کا سامنا ہوا ہے۔ ایک مبصر کا کہنا ہے کہ جتنی تیزی کے ساتھ ایم ایم اے دو ہزار دو میں صوبہ سرحد میں واحد فاتح کے طور پر سامنے آئی تھی، اسی تیزی کے ساتھ اس کا ان انتخابات میں صفایا ہوا ہے۔

صوبہ سرحد میں سیکولر قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اکثریت حاصل کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔ پی پی پی کو جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں پر مینڈیٹ تقسیم ہو کر ایک کمزور اتحاد والی حکومت کے بننے کا عندیہ دے رہا ہے۔

بلوچستان میں کئی سال سے چھوٹے چھوٹے مسلح قوم پرست گروہوں کی مزاحمت جاری ہے اور کئی مقامی جماعتوں نے ان انتخابات سے بائیکاٹ کیا تھا۔

الیکشن ریلی
ایم کیو ایم نے کراچی میں تقریباً تمام نشستیں جیت لی ہیں

صوبہ سندھ میں پی پی پی نے دیہی علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے جہاں پر صوبے کی ساٹھ فیصد آبادی مقیم ہے۔ پنجاب میں پی پی پی، مسلم لیگ نواز کے سامنے ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر ابھری ہے۔

اگرچہ ملک بھر خصوصاً سندھ میں انتخابی دھاندلی کے چند واقعات سامنے آئے ہیں لیکن مبصرین ان انتخابات کو مجموعی طور پر غیر جانبدار قرار دے رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر جانبدار انتخابات بین الاقوامی دباؤ، مقامی میڈیا کے کردار اور حکومت کو اس خوف سے ممکن ہو سکے کہ دھاندلی کی صورت میں ایک ملک گیر احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے۔

تاہم تشدد کے ڈر کی وجہ سے ووٹروں کے کم ٹرن آؤٹ نے صدر مشرف کو انتہائی برے نتائج کا سامنا کرنے سے بچا لیا ہے۔ اگر زیادہ شرح سے ووٹ ڈلتے تو صدر اور ان کی پالیسیوں کا مکمل صفایا ممکن تھا۔

دریں اثناء کئی مبصرین انتخابات میں ایک ماہ کے التواء کو پی پی پی کی حمایت میں کمی کی وجہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول اگر انتخابات آٹھ جنوری کو ہوتے تو ٹرن آؤٹ کہیں زیادہ ہوتا جس میں پی پی پی نے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کر سکتی تھی۔

حکومت نے ستائیس دسمبر کو پی پی پی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد انتخابات ملتوی کر دیے تھے اور پی پی پی سمیت حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے اس التواء کی مخالفت کی تھی۔

پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
چوہدری پرویز الہیاٹک کا انتخابی سفر
رشتوں کی سیاست اور کامیابی
پولنگخواتین ووٹرز
ملک بھر میں خواتین کا مجموعی ٹرن آؤٹ کم رہا۔
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد