بلوچستان: ووٹوں کی شرح انتہائی کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی جس کی بڑی وجوہات میں امن و امان کی صورتحال اور قوم پرست جماعتوں کا بائیکاٹ شامل ہیں۔ پیر کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بم دھماکوں، راکٹ باری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں جن میں کوئی پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امن و امان کے حوالے سے پولنگ کے دن کوہلو میں بارودی سرنگوں کے دو دھماکوں میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پہلا دھماکہ ایک پولنگ سٹیشن سے کوئی تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا ہے جہاں ووٹ کے لیے پیدل آنے والے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جو فرنٹیئر کور کا پانی کا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے جس سے ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ اس کے علاوہ کاہان کے علاقے میں نامعلوم مقام سے چار راکٹ داغے گئے جو کھلے میدان میں گرے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں ایک ایف سی کا ایک ٹریکٹر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے جس سے ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ دو گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری خود کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نے ٹیلیفون پر اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ قلات حضدار تربت ڈیرہ مراد جمالی ڈیرہ اللہ یار اور دیگر علاقوں سے دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں کم سے کم دو افراد ہلاک نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں ووٹوں کی انتہائی کم شرح کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بیشتر پولنگ سٹیشن ویران پڑے تھے۔ شہر کے مصروف ترین علاقے گوالمنڈی چوک پر گرلز ڈگری کالج میں خواتین کے پولنگ سٹین پر دوپہر ایک بجے تک صرف پچیس ووٹ پڑے تھے۔ مکران ڈویژن میں این اے دو سو بہتر پر جان محمد پولنگ سٹیشن پر کل نو وولا پڑے جبکہ کنجتی دشت پر صرف دس ووٹ پڑے ہیں۔ اس طرح کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ کے مطابق کاہان کے قریب چار پولنگ سٹیشنز پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما رضا محمد رضا کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام پشتون علاقوں اور بلوچ علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آخری وقت میں ٹھپے لگائے گے ہیں تاکہ ووٹ ڈالنے کی شرح بڑھائی جا سکے۔ |
اسی بارے میں سندھ: دھاندلی اور تصادم کے خدشات17 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی عملہ ڈیوٹی سے’خوفزدہ‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 ’جتنے زیادہ ووٹر دھاندلی اتنی کم‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 ’الیکشن قوم کو فوج سے لڑانے کو‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||