BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 19 February, 2008 - Published 11:45 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف مخالف جماعتوں کی جیت

پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے زیادہ تر انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جن کے مطابق سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی پوزیشن مضبوط تر ہو رہی ہے اور مرکز میں یہی دونوں جماعتیں بڑی پارٹیاں بن کر سامنے آئی ہیں۔

ہر نئے نتیجے کے بعد سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی پوزیشن مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے اور مرکز میں یہی دونوں جماعتیں بڑی پارٹیاں بن کر سامنے آئی ہیں۔

قوم صدر مشرف کو مسترد کر دیا ہے: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف پر دھاندلی کا الزام جھوٹ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے شفاف الیکشن کرائے اور اس بات کو سراہنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کے وہ اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن اس سے پہلے جیتنے والوں نے جو وعدے کیے ہیں وہ انہیں پورا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے عوام سے عدلیہ کی آزادی کاجو وعدہ کیا ہے وہ اب اس کو پورا کریں اور ہم انہیں ان کے وعدے یاد کراتے رہیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہاہے کہ قوم صدر مشرف کو مسترد کر دیا ہے، اب انہیں قوم کے فیصلے کااحترام کرتے ہوئے چلے جانا چاہیے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ عدلیہ بحال ہوگی اور صدر مشرف کا معاملہ اسی عدلیہ کے پاس جائے گا جس کے پاس ان کے امیدوار ہونے کی اہلیت کا کیس زیر سماعت تھا۔

صدر مشرف نے تین نومبر کو ایک پی سی او کے تحت عدلیہ کو معزول کردیا تھا۔معزول ہونے والی عدلیہ میں اس بنچ کے اراکین بھی شامل تھے جو صدر مشرف کی اہلیت کا کیس سن رہے تھے۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنے اس ایجنڈے پر کاربند ہیں جس کا وہ الیکشن سے پہلے اعلان کرتے رہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ان کا ایجنڈا عدلیہ کی بحالی،جمہوریت کی بحالی،اور فوج کے سیاست سے ہمیشہ کے لیے کردار کے خاتمے کا ہے اور وہ اس ایجنڈے پر آج بھی اسی طرح سے کاربند ہیں۔

اعتزاز احسن
’اگر اعلیٰ عدلیہ کے جج بحال نہ ہوئے تو نو مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا‘

دوسری طرف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اب صدر مشرف کے پاس استعفے کے علاوہ کوئی راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے جج بحال نہ ہوئے تو نو مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ق لیگ کی خراب کارکردگی پر چودھری شجاعت کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے بیان میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کو حکومت سازی کی پہلی شرط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مشرف کے ساتھ کام کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ مشرف کو جانا اور جسٹس افتخار کو بحال کرنا ہوگا۔

دوسری طرف پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اعتزاز احسن سمیت تمام نظر بند و زیر حراست وکلاء کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مبصرین کے مطابق مرکز میں ایک مخلوط حکومت کی تشکیل ہو گی اور حکومت سازی کے لیے حکمران اتحاد کو ایک سو بہتر ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور آزاد ارکان کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اتحاد بہت آسانی سے مرکز، پنجاب، سندھ اور سرحد میں حکومت بنا سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق بلوچستان میں ماضی کی طرح اس بار بھی پی پی پی اور دیگر چھوٹے گروپوں پر مشتمل حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے۔

چودھری شجاعت حسین گجرات اور سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے ہار گئے

اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں 87، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 66 جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) 39 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ایم کیو ایم کو 19، اے این پی کو 10، ایم ایم اے کو صرف دو نشستیں ملی ہیں جبکہ 26 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور اب تک اس نے 89 نشستیں جیتی ہیں۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو 44 نشسوں کے ساتھ برتری حاصل ہے جبکہ سرحد میں اے این پی 26 نشستیں حاصل کر کے سب سے آگے ہے۔ بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جہاں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کو 13 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہوئی ہے۔

انتخاب جیتنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم بھی شامل ہیں، جنہیں مبصرین آئندہ کے سیاسی سیٹ اپ میں اہم کردار ادا کرتے دیکھ رہے ہیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی کی چار میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مخدوم امین فہیم نے مٹیاری سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی ہے۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد حکومت سازی کا عمل منگل کے روز ہی شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کر رکھا ہے جبکہ اسی تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

 چودھری شجاعت حسین کے علاوہ سابق وفاقی وزراء غلام سرور خان، لیاقت جتوئی، اویس لغاری، ہمایوں اختر خان، چودھری شہباز خان، ڈاکٹر شیر افگن نیازی، وصی ظفر، مشتاق چیمہ اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین بھی اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کئی اہم رہنماؤں اور سابق وفاقی وزراء کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسلم لیگ قائد اعظم کے صدر چودھری شجاعت حسین گجرات اور سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے ہار گئے ہیں۔ گجرات سے قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 105 سے انہیں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار احمد مختار نے شکست دی ہے جبکہ سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 112 سے انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا عبدالستار کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

پنجاب کے سابق وزیراعلٰی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی بہاولپور اور چکوال سے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے ہیں جبکہ وہ اٹک سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیت گئے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار آصف احمد علی سے قومی اسمبلی کی سیٹ ہار گئے ہیں جبکہ سابق وزیر شیخ رشید احمد کو بھی راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سابق وفاقی وزراء غلام سرور خان، لیاقت جتوئی، اویس لغاری، ہمایوں اختر خان، چودھری شہباز خان، ڈاکٹر شیر افگن نیازی، وصی ظفر، مشتاق چیمہ اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین بھی اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

احتجاج کرتی قبائلی عورتیں
قبائلی علاقوں میں کئی جگہ انتخابات کے نتائج پر احجاج بھی ہوا

دوسری طرف سابق وزراء داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور مخدوم فیصل صالح حیات اپنی سیٹوں پر جیت گئے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ نے چارسدہ سے کامیابی حاصل کی جبکہ مخدوم فیصل صالح حیات جھنگ سے اپنی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی بھی قومی اسمبلی کی ایک ایک نشست سے ہار گئے ہیں جبکہ ایک ایک سیٹ سے انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے چوبیس سے پی پی پی کے امیدوار بیرسٹر فیصل کریم کنڈی سے ہارے ہیں جبکہ بنوں سے وہ آزاد امیدوار ناصر خان کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔

دوسری طرف اسفندیار ولی چارسدہ سے تو اپنی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے لیکن صوابی سے آزاد امیدوار عثمان ترکئی کے مقابلے میں ہار گئے ہیں۔

جیتنے والے اہم امیدواروں میں اے این پی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور، پی پی پی کے ارباب عالمگیر، پاکستان مسلم لیگ کے ہمایوں سیف اللہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چودھری نثار علی خان، معروف کالم نگار ایاز امیر، سابق وفاقی وزیر سمیرا ملک، حنا ربانی کھر، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال، پی پی پی کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی، سابق سپیکر قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو، سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین اور سابق وزیر چودھری عبدالغفور شامل ہیں۔

پولنگلمحہ بہ لمحہ روداد
بلوچستان میں انتہائی کم ٹرن آوٹ
وفاق کے لیے خطراتوفاق کے لیے خطرات
بینظیر بھٹو کے قتل سے سیاسی سمت بدل گئی ہے
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
چودھریوں کی مشکل
پی پی پی کے امیدواروں کے لیے ہمدردی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد