نواز لیگ، پنجاب پر ہی زور دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے چھیاسٹھ سیٹیں حاصل کی ہیں اور سیاسی مبصرین اسے پارٹی کی ایک شاندار کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ کچھ سیاسی حلقے اسے اعلیٰ عدلیہ اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی سمیت مختلف قومی امور پر میاں نواز شریف کے واضح موقف کا ثمر قرار دے رہے ہیں۔ لیکن جن حلقوں سے نواز لیگ کے ارکان اسمبلی منتخب ہو کر آئے ہیں ان کا اگر بغور جائزہ لیا جائے، پارٹی کی کارکردگی کو سنہ انیس سو ستانوے کے انتخابی کامیابی کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس ’شاندار کامیابی‘ نے پی پی پی کے بعد ملک کی دوسری بڑی قومی جماعت کو سنٹرل پنجاب اور صوبے کے شمالی اضلاع تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ سنہ انیس سو ستانوے کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے دو سو سات میں سے ایک سو چھتیس نشستیں حاصل کی تھیں۔ ان میں سے ایک سو دس سیٹیں پنجاب سے جیتی گئی تھیں جبکہ پی ایم ایل نواز کے پندرہ ارکان صوبہ سرحد سے منتخب ہوئے تھے۔ صوبہ سرحد سے منتخب ہونے والے تمام ارکان کے حلقے صرف ہزارہ ڈویژن تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، سوات چترال، لوئر دیر اور مالاکنڈ جیسے اضلاع سے منتخب ہو کر آئے تھے۔ اس کے علاوہ نواز لیگ نے دیہی سندھ سے چھ، کراچی سے دو اور بلوچستان سے تین نشستیں حاصل کی تھی۔
اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ نواز نے حالیہ انتخابات میں چار کو چھوڑ کر تمام کی تمام نشستیں صوبہ پنجاب سے حاصل کی ہیں۔ سرحد سے جیتی جانے والی چار نشستوں میں سے تین ایبٹ آباد اور ہری پور سے جیتی گئیں جبکہ پی ایم ایل نواز کے ایک رکن فیض محمد خان مانسہرہ سے جیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نواز لیگ کے دو ارکان انجم عقیل گولڑہ اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری اسلام آباد سے منتخب ہوئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی پنجاب سے حاصل کی گئی ساٹھ سیٹوں میں سے اڑتیس سنٹرل پنجاب سے جیتی گئیں جبکہ تیرہ حلقے جہاں سے نواز لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے پنجاب کے شمالی اضلاع میں واقع ہیں۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ جنوبی پنجاب سے صرف نو سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ پی پی پی پنجاب میں اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود جنوبی اضلاع سے سترہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ پارٹی حلقے مسلم لیگ نواز کی جغرافیائی لحاظ سے محدود لیکن عددی لحاظ سے شاندار کارکردگی کو میاں برادران کو الیکشن کی تیاری کے لیے ملنے والا کم وقت بتا رہے ہیں۔ نواز لیگ کے رہنماؤں کے مطابق جس وقت میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ قاف اپنے امیدوار فائنل کر چکے تھے جس کی وجہ سے پاکستان لیگ نواز کو بچے کھچے امیدواروں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد الیکشن کے التواء کی وجہ سے نواز لیگ کو جو چالیس روز ملے پارٹی نے اس کا پورا فائدہ اٹھایا اور سنٹرل پنجاب میں زیادہ سے زیادہ جلسے کیے۔ میاں نواز شریف نے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت وسطی اور شمالی پنجاب میں گزارا جس کا انہیں بے حد فائدہ ہوا۔ |
اسی بارے میں آزاد اراکین پر سب کی نظر20 February, 2008 | الیکشن 2008 ق لیگ ارکان کو نواز کی دعوت 20 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق21 February, 2008 | الیکشن 2008 عدلیہ بحال ہوگی: نواز شریف19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||