BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 21 February, 2008 - Published 07:31 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت سازی،ملاقاتیں شروع

نواز شریف، آصف زرداری اور اسفندیار ولی
زرداری اور اسفندیار ولی کی ملاقات ہوئی ہے جبکہ نواز زرداری ملاقات بھی متوقع ہے
پاکستان میں نئی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں نے صلاح مشورے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری نے جمعرات کو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سے مرکز اور سرحد صوبے میں حکومت سازی پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ لاجز میں اسفندیار ولی خان سے ملاقات کی جس میں دونوں جماعتوں کے سرکردہ رہنما بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے ہیں۔

ادھر انتخابات میں دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیرِاعلٰی پنجاب شہباز شریف بھی لاہور سے جمعرات کی صبح اسلام آباد پہنچ گئے۔

مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات سے قبل مرکزی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں ان کی جماعت سے وابستہ سینٹ کے اراکین کے علاوہ نو منتخب قومی اسمبلی کے اراکین بھی شرکت کریں گے۔

یہ اجلاس جمعرات کی دو پہر اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس کے بعد شام چھ بجے صحافیوں کو اس اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی نے بھی اپنی قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نئی منتخب پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس اسلام آباد اور کراچی میں طلب کیے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اگلے روز صبح ساڑھےگیارہ بجے جبکہ سرحد اسمبلی کے اراکین کا اجلاس اسی روز شام چار بجے منعقد ہوگا۔

انتخابی کمیشن کا حکم
 انتخابی کمیشن نے منتخب ہونے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ انتخابی اخراجات کی تفصیلات اٹھائیس فروری تک جمع کرا دیں۔ قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے اخراجات کی حد پندرہ لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے یہ حد دس لاکھ روپے مقرر ہے۔

سندھ اور بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چوبیس فروری کو کراچی میں بلاول ہاؤس میں منعقد ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت سازی کا عمل وسط مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انتخابی کمیشن نے منتخب ہونے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ انتخابی اخراجات کی تفصیلات اٹھائیس فروری تک جمع کرا دیں۔ قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے اخراجات کی حد پندرہ لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے یہ حد دس لاکھ روپے مقرر ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جو منتخب امیدوار کے قانونی تقاضہ پورا نہیں کریں گے ان کے نام سرکاری نتائج میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 172 میں پولنگ سٹیشن نمبر دو سو پینتیس میں دوبارہ پولنگ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ پولنگ سٹیشن گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کھار میں قائم ہے اور یہاں دوبارہ پولنگ 23 فروری بروز ہفتہ کو ہوگی۔

بدھ کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے ملنے والی رپورٹ کے پیش نظر کیا گیا ہے اور یہاں دوبارہ پولنگ کے دوران متعلقہ ریٹرننگ آفیسر موجود رہیں گے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ (ق) کی طرف سے سابق صدر فاروق احمد خان لغاری، پیپلز پارٹی کے شبیر احمد خان لغاری اور مسلم لیگ (ن) کے حافظ عبدالکریم امیدوار ہیں۔

نواز شریفجوڑ توڑ کا آغاز؟
ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت
جمہوریت کی جیت
نتائج کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
اسی بارے میں
ق لیگ ارکان کو نواز کی دعوت
20 February, 2008 | الیکشن 2008
ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن
19 February, 2008 | الیکشن 2008
مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد