BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 21 February, 2008 - Published 10:08 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق

آصف زرداری اور اسفندیار ولی
زرداری اور اسفندیار ولی کی ملاقات اسلام آباد میں ہوئی
پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی مرکز اور صوبہ سرحد میں مخلوط حکومت قائم کرنے پر متفق ہو گئی ہیں۔

یہ بات جمعرات کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتائی۔

اٹھارہ فروری کے انتحابات کے بعد قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ کی کسی سیاسی جماعت کے رہنما سے حکومت سازی کے بارے میں پہلی ملاقات ہے اور اس کے ساتھ ہی ملک میں حکومت سازی کی باضابطہ سرگرمیاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔

اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ لاجز میں آصف علی زرداری اور اسفندیار ولی خان نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی بالادستی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے‘۔

حالیہ انتخابات میں دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف بھی جمعرات کی شام زرداری ہاؤس میں آصف علی زرداری سے حکومت سازی کے متعلق بات چیت کریں گے اور پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق دونوں رہنما رات آٹھ بجے مشترکہ نیوز بریفنگ دیں گے۔

ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی بالادستی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے
آصف علی زرداری اور اسفندیار ولی خان

ادھر مسلم لیگ نواز کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں جاری ہے جس میں حکومت سازی کے حوالے سے ترجیحات طے کی جا رہی ہیں۔

حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کو مسترد کرکے مسلم لیگ نواز کو ترجیح دینے کے اقدام کو بعض تجزیہ کار پیپلز پارٹی کی صدر پرویز مشرف سے محاذ آرائی کے آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کیا ہے۔ سنیچر تئیس فروری کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس صبح ساڑھےگیارہ بجے جبکہ اُسی روز شام چار بجے سرحد اسمبلی کے اراکین کا اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔

پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق چوبیس فروری کی صبح ساڑھے گیارہ بجے بلوچستان اور شام چار بجے سندھ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کراچی میں بلاول ہاؤس میں بلائے گئے ہیں۔

نواز شریفجوڑ توڑ کا آغاز؟
ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت
جمہوریت کی جیت
نتائج کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
اسی بارے میں
حکومت سازی،ملاقاتیں شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
زرداری کے خلاف تفتیش پر زور
20 February, 2008 | الیکشن 2008
ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن
19 February, 2008 | الیکشن 2008
مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد