زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی مرکز اور صوبہ سرحد میں مخلوط حکومت قائم کرنے پر متفق ہو گئی ہیں۔ یہ بات جمعرات کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتائی۔ اٹھارہ فروری کے انتحابات کے بعد قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ کی کسی سیاسی جماعت کے رہنما سے حکومت سازی کے بارے میں پہلی ملاقات ہے اور اس کے ساتھ ہی ملک میں حکومت سازی کی باضابطہ سرگرمیاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ لاجز میں آصف علی زرداری اور اسفندیار ولی خان نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی بالادستی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے‘۔ حالیہ انتخابات میں دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف بھی جمعرات کی شام زرداری ہاؤس میں آصف علی زرداری سے حکومت سازی کے متعلق بات چیت کریں گے اور پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق دونوں رہنما رات آٹھ بجے مشترکہ نیوز بریفنگ دیں گے۔ ادھر مسلم لیگ نواز کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں جاری ہے جس میں حکومت سازی کے حوالے سے ترجیحات طے کی جا رہی ہیں۔ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کو مسترد کرکے مسلم لیگ نواز کو ترجیح دینے کے اقدام کو بعض تجزیہ کار پیپلز پارٹی کی صدر پرویز مشرف سے محاذ آرائی کے آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کیا ہے۔ سنیچر تئیس فروری کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس صبح ساڑھےگیارہ بجے جبکہ اُسی روز شام چار بجے سرحد اسمبلی کے اراکین کا اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔ پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق چوبیس فروری کی صبح ساڑھے گیارہ بجے بلوچستان اور شام چار بجے سندھ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کراچی میں بلاول ہاؤس میں بلائے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری کے خلاف تفتیش پر زور20 February, 2008 | الیکشن 2008 دھاندلی کا الزام، کامیاب کو مبارکباد20 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||