سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد صوبہ سرحد میں سیاسی جماعتوں نے حکومت سازی کے حوالے سے دوڑ دھوپ شروع کر دی ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق چھیانوے نشستوں میں سے قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے سب سے زیادہ تینتیس جبکہ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی نے سترہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ میں حکومت بنانے کا واضح اعلان کر دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت ابھی تک دونوں جماعتوں کے مرکزی قائدین کے درمیان مرکزی سطح پر حکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے کسی بھی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ البتہ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے بھی سترہ آزاد اراکین اور دیگر جماعتوں کے ساتھ خفیہ رابطہ شروع کر دیے ہیں۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے درمیان مرکزی سطح پر اتحاد بننے کا بھی غالب امکان ہے اور پیپلز پارٹی اگر مر کز میں حکومت بناتی ہے تو صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے مؤثر طورپر نمٹنے کے لیے اسے اے این پی کی اشد ضرورت ہوگی۔ یاد رہے کہ اے این پی نے شورش زدہ علاقہ سوات سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی زیادہ تر نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ صوبہ سرحد میں بظاہر وزیراعلی کے عہدہ پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات سامنے آ سکتے ہیں جس کے لیے پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت فی الحال تیار نظر نہیں آرہی ہے جبکہ دوسری طرف اے این پی نےیہ واضح اعلان کیا ہے کہ دیگر جماعتوں سے اتحاد وزارت اعلی کا منصب اے این پی کو دینے کی شرط پر ہی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ہونے والے نو عام انتخابات میں کئی مرتبہ اکثریت حاصل ہونے کے باوجود اے این پی نے وزارت اعلٰی کا عہدہ لینے سے احتراز کیا ہے لیکن دوسری طرف تمام اہم وزارتیں لے کر اصل حکومت اے این پی ہی کرتی رہی ہے۔ انیس سو ستر کے انتخابات میں نیپ کو صوبہ سرحد میں زیادہ نشستیں ملیں مگر اس نے وزارت اعلٰی کا عہدہ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا مفتی محمود کو دے دیا۔ انیس سو اٹھاسی، نوے، ترانوے اور ستانوے کے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتوں میں شامل ہونے کے باوجود اے این پی نے وزارت اعلی کا عہدہ لینے پر کسی قسم کا کوئی اصرار نہیں کیا۔ اگر اس دفعہ اے این پی کا کوئی امیدوار وزیراعلٰی بنتا ہے تو یہ پاکستان کی اکسٹھ سالہ تاریخ میں اس جماعت کا پہلا منتخب وزیراعلی ہوگا۔ اس سے قبل انیس سو سینتالیس میں پاکستان کے قیام کے وقت صوبہ سرحد میں خان عبدالغفار خان کی خدائی خدمتگار اور آل انڈیا نشینل کانگریس کی مشترکہ حکومت تھی۔ اس وقت صوبہ کے وزیراعلی ڈاکٹر خان صاحب تھے جنہیں پچاس کے ایوان میں تینتیس اراکین کی حمایت حاصل تھی مگر پاکستان کے قیام کے بعد گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے انیس سو پینتیس ایکٹ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر خان کی حکومت برطرف کردی تھی جس کے بعد مسلم لیگ کے خان عبدالقیوم خان نے حکومت بناڈالی جنہیں محض سترہ اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔ | اسی بارے میں پشتون انتہا پسند نہیں: اسفندیار19 February, 2008 | پاکستان سرحد میں اے این پی کی اکثریت19 February, 2008 | الیکشن 2008 فاٹا میں دس سیٹوں پر الیکشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 اٹک: رشتوں کی سیاست19 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی اسمبلی کے نئے چہرے19 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||