BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 19 February, 2008 - Published 19:25 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد میں اے این پی کی اکثریت

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان
سرحد اسمبلی کی کل ننانوے نسشتوں میں سے ‏زیادہ تر نشستوں کے غیر حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو تمام پارٹیوں پر برتری حاصل ہے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق اے این پی نے اکتیس نشستیں حاصل کی ہیں۔

چوبیس اضلاع کی پارٹی پوزیشن:
ضلع پشاور میں صوبائی اسمبلی کے گیارہ حلقوں میں سے ایک کے علاوہ باقی تمام حلقوں کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں عوامی نینشل پارٹی نے سات جبکہ تین نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

چارسدہ کے چھ نشستوں میں سے تین اے این پی کے حصے میں آئی ہیں جبکہ تین پر آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی پیپلز پارٹی کے امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔

مردان میں صوبائی اسمبلی کی سات نسشستوں پر اے این پی اور پیپلز پارٹی پالمینٹرینز کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے بعد تین تین سیٹوں پر دونوں جماعتوں کے امیدوار منتخب ہوئے ہیں جبکہ ایک نشست پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔

ضلع صوابی کی پانچ نشستوں میں سے تین پر اے این پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور دیگر دو پر ایک آزاد جبکہ ایک نشست پر صوابی اتحاد کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔

ضلع نوشہرہ کی پانچ نشستوں پر سخت مقابلے کے بعد اے این پی اور پی پی پی کو دو دو نشستیں ملی ہیں جبکہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔

شورش زدہ ضلع سوات کی سات اور ضلع بونیر کی تین نشستوں پر اے این پی کے امیدوار زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مالاکنڈ ڈویژن اور دیر کے دو اضلاع میں پی پی پی کے امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔

سرحد کے جنوبی اضلاع کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو میں کسی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ان علاقوں سے آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ہزارہ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون اور آزاد امیدوار جیت رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سرحد میں تین حلقوں میں امیدواروں کے موت کے باعث وہاں انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔

نواز شریفنواز شریف:
اب مشرف اپنی آنکھیں کھولیں
انتخاباتتیر اور شیر کی جیت
مشرف کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے
الیکشن کے بعد جشنمشرف کی مشکل
پاکستان میں اب حکومت کون کون بنائے گا؟
اسی بارے میں
سرحد: مجلس عمل کی پوزیشن خراب
18 February, 2008 | الیکشن 2008
ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد