سرحد میں اے این پی کی اکثریت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد اسمبلی کی کل ننانوے نسشتوں میں سے زیادہ تر نشستوں کے غیر حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو تمام پارٹیوں پر برتری حاصل ہے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق اے این پی نے اکتیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ چوبیس اضلاع کی پارٹی پوزیشن: چارسدہ کے چھ نشستوں میں سے تین اے این پی کے حصے میں آئی ہیں جبکہ تین پر آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی پیپلز پارٹی کے امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ مردان میں صوبائی اسمبلی کی سات نسشستوں پر اے این پی اور پیپلز پارٹی پالمینٹرینز کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے بعد تین تین سیٹوں پر دونوں جماعتوں کے امیدوار منتخب ہوئے ہیں جبکہ ایک نشست پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ضلع صوابی کی پانچ نشستوں میں سے تین پر اے این پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور دیگر دو پر ایک آزاد جبکہ ایک نشست پر صوابی اتحاد کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ضلع نوشہرہ کی پانچ نشستوں پر سخت مقابلے کے بعد اے این پی اور پی پی پی کو دو دو نشستیں ملی ہیں جبکہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ شورش زدہ ضلع سوات کی سات اور ضلع بونیر کی تین نشستوں پر اے این پی کے امیدوار زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مالاکنڈ ڈویژن اور دیر کے دو اضلاع میں پی پی پی کے امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ سرحد کے جنوبی اضلاع کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو میں کسی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ان علاقوں سے آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون اور آزاد امیدوار جیت رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سرحد میں تین حلقوں میں امیدواروں کے موت کے باعث وہاں انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 چاروں صوبوں میں مختلف جماعتیں18 February, 2008 | پاکستان سرحد: مجلس عمل کی پوزیشن خراب 18 February, 2008 | الیکشن 2008 ٹرن آؤٹ 46 فیصد: الیکشن کمیشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||