سرحد: مجلس عمل کی پوزیشن خراب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں قدرے پرامن پولنگ مکمل ہونے کے بعد نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں جس میں بظاہر قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے امیدوار جیت رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں صوبہ بھر میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل اس مرتبہ اپنی پرانی پوزیشن برقرار نہیں کر سکےگی۔ پشاور کے چار قومی اور صوبائی اسمبلی کے گیارہ حلقوں پر گنتی کا عمل جاری ہے جس میں مقامی ذرائع کے مطابق اے این پی کی امیدواروں کی پوزیشن اچھی بتائی جا رہی ہے۔ سوات سے ملنےوالی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دو صوبائی حلقوں پی ایف 84 اور پی ایف 82 سے غیر سرکاری نتائج کے مطابق اے این پی کے ایوب خان اور وقار خان کامیاب قرار پائے ہیں۔ چارسدہ کے حلقہ سات میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی پوزیشن مضبوط بتائی جا رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایف 77 بونیر ایک سے اے این پی کے سردار حسین بابک جیت گئے ہیں جبکہ مالاکنڈ ڈویژن کے چار حلقوں پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے امیدوار جیت رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقے وانا سے اطلاعات ہیں کہ وہاں جمعیت علماء اسلام کے حمایت یافتہ امیدوار مولانا عبد المالک کی پوزیشن اچھی جاری ہے جبکہ شمالی وزیرستان میں کامران خان جیت رہے ہیں۔ دوہزار دو کے انتخابات میں صوبہ سرحد میں اکثریتی جماعت اور صوبہ میں پانچ سال تک حکمران رہنے والی جماعت متحدہ مجلس عمل بظاہر اس الیکشن میں پرانی پوزیشن برقرار نہیں رکھ پائی گی۔ اب تک ملنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم ایم اے کا کوئی امیدوار نہیں جیتا ہے۔ |
اسی بارے میں ابتدائی رجحانات: ایم ایم اے پیچھے، غیر متوقع نتائج کا امکان18 February, 2008 | الیکشن 2008 پشاور: پولنگ زیادہ تر سست رہی18 February, 2008 | الیکشن 2008 پنجاب: کم ووٹر، آٹھ ہلاک18 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ: پولنگ پرامن رہی18 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||