BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 18 February, 2008 - Published 12:32 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابتدائی رجحانات: ایم ایم اے پیچھے، غیر متوقع نتائج کا امکان


اب تک موصول ہونے والے نتائج

پاکستان میں خود کش بم دھماکوں کے خوف اور انتہائی کشیدہ سیاسی ماحول میں سوموار کو ہونے والے نویں عام انتخابات میں کروڑوں افراد نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے اپنا حق رائے داہی استعمال کیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں قائم ساٹھ ہزار کے قریب پولنگ سٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے اور اس مرتبہ نتائج کا اعلان ریٹرنگ افسراں کریں گے۔

پولنگ کے دوران ملک کے کسی حصے سے دہشت گردی کے کسی بڑے واقعہ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ہنگو میں نامعلوم مسلحہ افراد نے ایک پولنگ سٹیشن کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا اور سوات میں بھی تین دھماکے ہوئے تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تشدد کے ان واقعات کے علاوہ پنجاب اور سندھ میں مختلف پولنگ سٹیشنوں پر امیدواروں کے درمیان جھگڑوں میں سرکاری ذرائع کے مطابق نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صدر مشرف نے پنڈی میں ووٹ ڈالا

پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا ہے سہہ پہر تین بجے تک پنجاب کے اڑتیس ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے تیس پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں اور اب تک پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نارووال، حافظ آباد اور گجرات میں ہونے والے ہنگاموں میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ترجمان کے مطابق بڑی تعداد میں اسلحہ لیکر گھومنے والوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولنگ کے دوران ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے جوان پولنگ سٹیشنوں کے باہر، شہروں اور قصبوں میں تعینات کیئے گئے تھے۔

خوف اور تشدد کے خدشات میں ہونے والے ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب کم رہا۔ لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 122 اور صوبائی اسمبلی کے 147 اسمبلی میں ایک سکول میں قائم پولنگ سٹیشن کی پریزاڈنگ آفیسر بشری جمیل نے بتایا کہ پولنگ ختم ہونے تک اور ان کے پاس 1260 خواتین ووٹرز کی فہرست تھی جن میں سے صرف تین سو کے قریب ووٹرز نے ووٹ دیئے۔

مسلم لیگ ن کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر حکومت کے دھاندلی کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کی جماعت سو کے قریب نشستیں لینے میں کامیاب ہو جائے گی۔
ارمان صابر نے کراچی سے بتایا ہے کہ سندھ کے علاقے شکارپور کے دامن محلہ میں دو گروہوں میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

سندھ پولیس کے مطابق یہ تصادم مسلم لیگ قاف اور ایک آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان پولنگ اسٹیشن انتالیس کے قریب ہوا۔ پولیس کے مطابق لاش اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جارہا ہے۔

وہیں لاہور سے علی سلمان نے بتایا کہ سیالکوٹ کے حلقہ ایک سو گیارہ میں کچی امام پولنگ سٹیشن پر پیپلز پارٹی کے تین کارکن زخمی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔

پولنگ کے دوران سخت سکیورٹی انتظامات کیئے گئے تھے

سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کی مخالف پیپلز پارٹی کی امیدوار نے فردوس عاشق اعوان نےکہا ہے کہ مختلف پولنگ سٹیشن پر ان کے بائیس افراد کو زخمی کیا جاچکا ہے۔ان کاکہناہے کہ جہاں بھی مسلم لیگ قاف کے امیدوار کو شکست ہوتی نظر آتی ہے وہاں یا پولنگ بند کرادی جاتی ہے یا انتہائی سست کردی جاتی ہے اور انتظامیہ ان کی بات نہیں سن رہی۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے دلاور خان وزیر کے مطابق بنوں پولیس کے سربراہ دار علی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر سے بیس کلومیٹر جنوب کی جانب گاؤں بکا خیل میں پولینگ سٹیشن نرمی خیل سے عملے کے نو افراد لاپتہ ہوگئے ہیں جس میں چار الیکشن عملے کے اہلکار، پانچ پولیس اور ایف سی کے اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پولیس نے تلاشی کا عمل شروع کیا ہے لیکن تاحال کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

عباس نقوی نے کراچی سے بتایا ہے کہ کراچی کے حلقہ این اے دوسو تریپن کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ سندھی بوائز پرائمری سکول جمعہ گوٹھ، بھٹائی آباد میں پولنگ ساڑھے پانچ گھنٹے تاخیر یعنی ڈیڑھ بجے شروع کی گئی ہے۔

پریزائڈنگ افسر کے مطابق انہیں گلستانِ جوہر پولیس نے الیکشن کے سامان سمیت متعلقہ پولنگ اسٹیشن کے بجائے پانچ کلومیٹر دور ایسے سکول میں اتار دیا جہاں پولنگ اسٹیشن ہی نہیں تھا۔ ان کے بقول انہیں بغیر سیکیورٹی کے پولنگ اسٹاف اور انتخابی سامان کو متعلقہ پولنگ تک منتقل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوا جس کے باعث پولنگ شروع ہونے میں تاخیر ہوگئی۔

ادھر کراچی کے صوبائی حلقہ پی ایس 128 کراچی، داؤد چورنگی پر لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کرکے ٹریفک کو معطل کردیا ہے۔

نواز شریف نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ دھاندلی کے باوجود ان کی جماعت کامیاب ہوگی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے یہ حامی اس وقت مشتعل ہوئے جب انہیں اطلاع ملی کہ اس حلقہ سے اے این پی کے امیدوار امان اللہ محسود کی گاڑی پر مخالف گروپ یعنی متحدہ قومی مومنٹ کے علاقے میں فائرنگ کی گئی ہے۔

رینجرز اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچی اور اس نے مشتعل افراد پر لاٹھی چارج کر دیا۔ اس دوران قریبی پولنگ سٹیشن میں تقریباً آدھے گھنٹے تک پولنگ روک دی گئی تھی جو بعدازاں دوبارہ شروع کردی گئی۔

نامہ نگار کے مطابق کراچی کے حلقے این اے 250 ڈیفنس اور این اے 239 کیماڑی میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم ہے اور آخری خبریں آنے تک چار فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں جبکہ خواتین میں یہ شرح دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ ان دونوں حلقوں کے بیشتر پولنگ اسٹیشنوں میں پولنگ آدھے سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی۔

ادھرلاہور سے علی سلمان نے اطلاع دی ہے کہ ڈسکہ کے حلقہ ایک سو بارہ میں آڈا کے مقام پر مسلم لیگ قاف کے پولنگ ایجنٹ نے فائرنگ کر کے مسلم لیگ نواز کے پولنگ ایجنٹ کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بعد نواحی گاؤں اڈامیں ملز م کے گھر کو مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے آگ لگا دی ہے۔

گوجرانوالہ کے حلقہ این اے ایک سو میں ایک پولنگ سٹیشن پر فائرنگ سے آدھے گھنٹہ کے لیے پولنگ رکی رہی ہے اور اسی حلقہ میں آزاد امیدوار مدثر قیوم نارہ کے ورکروں پر مسلم لیگ قاف کے کارکنوں کی فائرنگ سے دو کارکن زخمی ہو گے ہیں۔

راول پنڈی میں ووٹ ڈال کر واپس آنے والی بعض خواتین

اسی حلقہ کے علاقہ چھبیس ورکاں اور میناں ورکاں میں بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ کانوال میں پریزائڈنگ افسر سے مسلم لیگ قاف کے کارکنوں نے پیلٹ پیپر چھین لیے ہیں آخری اطلاعات تک پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔

دریں اثناء سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ شہباز شریف نے اپنے آبائی صوبائی انتخابی حلقہ ایک سو بیالیس نے ووٹ ڈالا ہے۔شریف برادران نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں قائم پولنگ اسٹیشن میں بیلٹ پیر پر اپنی جماعت کے انتخابی نشان پر شیر پرمہر لگائی اور ووٹ ڈالتے ہوئے وکٹری کانشانہ بنایا ۔

نواز شریف نے ووٹ ڈالنے کے بعد اخبارنویسوں سے مختصر بات چیت میں کہا کہ دھاندلی کے باوجود ان کی جماعت کامیاب ہوگی۔ انہوں نے لاہور کےصوبائی اسمبلی ایک سو چون میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار آصف اشرف کی ہلاکت کی مذمت کی۔

پریزائڈنگ آفیسر کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سات سو سے زائد ہے جبکہ گیارہ بجکر پینتالیس منٹ تک ایک سو اکاون ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔

پشاورسے رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ پشاور کی چار قومی اور گیارہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پولنگ پر امن طور پر جاری ہے شہر میں تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

این اے دو میں لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آ رہے ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک بہت کم ہے۔ شہر میں پچیس پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے آج صبع پولنگ شروع ہونے سے پہلے ان تمام پولنگ سٹیشن کو بم ڈسپوزل کے عملے نے چیک کیا جبکہ ان کے اردگرد تین سے چار سو میڑ کے علاقہ کو خار دار تاریں لگا کر ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے اور صرف پیدل جانے کی اجازت ہے۔

راولپنڈی سے ذوالفقار علی کے مطابق راولپنڈی کے حلقہ این اے پچپن اور چھپن سے مسلم لیگ ق کے امیدوار شیخ رشید احمد نے ضیاالعلوم ہائی سکول راولپنڈی کے پولنگ بوتھ میں اپنا ووٹ ڈالا۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے انتخاب کے لیے پولنگ کا آغاز صبح آٹھ بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق صبح کے وقت پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی تعداد کافی کم تھی۔

صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اسے’مدر آف آل الیکشنز‘ قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب اُن کے ناقدین اور سیاسی حریف اسے ’تمام دھاندلیوں کی ماں‘ بنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔پیپلز پارٹی ’گھوسٹ‘ پولنگ سٹیشن قائم کرنے کا الزام دہرا رہی ہے تو مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے واضح الفاظ میں دھاندلی کی صورت میں احتجاجی مہم کی دھمکی دی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ووٹروں کو ان کے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں سہولت دینے کے لیے پرامن اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع انتظامات کئے ہیں۔ فوج پولیس اور رینجرز کی معاونت کے لیے تیار رہے گی۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ نے اتوار کی رات قوم سے خطاب کیا اور ناظمین کو متنبہ کیا کہ وہ کوئی غلط کام نہ کریں

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے اس ضمن میں کہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے چاروں صوبوں میں حساس اور بہت حساس علاقوں میں فوج کی پچانوے بٹالین تعینات کی گئی ہیں۔ تاہم ان کا اصرار ہے کہ فوج صرف امن عامہ کی صورتحال خراب ہونے کی صورت میں طلب کی جا سکے گی اور انتخابی انتظامات سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کو سب سے زیادہ دھاندلی کا خطرہ ناظمین سے تھا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے شاید اسی وجہ سے اتوار کی رات قوم سے خطاب میں ناظمین کو خاص طور پر متنبہ کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے یا مداخلت کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں ورنہ اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی جو اُن کی نااہلیت پر مُنتج ہوسکتی ہے۔

کئی غیرسرکاری تنظیموں نے مختلف اندام میں انتخابات کو شفاف بنانے کے عمل کا جائزہ لیا ہے اور کئی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف، گورنرز، نگران حکومت، الیکشن کمیشن، ضلعی حکومتیں اور سرکاری میڈیا جانبدار ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولنگ خوف کے سائے میں شروع ہوئی

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پہلی مرتبہ حکومت نے ذرائع ابلاغ میں انتخابی مہم کے خاتمے کے بعد سیاستدانوں یا امیدواروں کو کوریج دینے اور انتخابی اشتہارات نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

انتخابات کےانعقاد کو بہتر بنانے کیلئے انتخابی نظام کے حوالہ سے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔پہلی مرتبہ چین سے درآمد کردہ شفاف بیلٹ بکس پہلے سے اعلان کردہ تمام پولنگ سٹیشنوں پر استعمال کئے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن نے خصوصی ووٹنگ سکرینوں کا بھی اہتمام کیا ہے جبکہ انتخابی فہرستیں اور پولنگ سٹیشنوں کی فہرست بھی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں۔

ماضی کی روایت کے برعکس اس دفعہ ریٹرننگ افسران پولنگ سٹیشنوں سے موصولہ نتائج کی بناء پر اپنے اپنے پولنگ حلقوں میں نتائج کا اعلان کریں گے۔

پاکستان میں اب تک کے تمام عام انتخابات میں حالات چاہے جو بھی ہوں ووٹر ٹرن آوٹ تیس سے چالیس فیصد کے درمیان رہا ہے۔

کئی قومی و صوبائی حلقوں میں امیدواروں کی ہلاکت یا خراب امن عامہ کی صورتحال کی وجہ سے آج پولنگ نہیں ہو گی۔ ان میں بےنظیر بھٹو اور جنوبی وزیرستان کے حلقے شامل ہیں۔ انتخابی کمیشن نے رات گئے قبائلی علاقے کے ایک اور حلقے این اے سینتیس میں بھی پولنگ ملتوی کر دی ہے۔

احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
انتخابی عملہ ’نہیں کرنی ڈیوٹی‘
انتخابی عملہ الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ
وجاہت حسینالیکشن 2008
گجرات میں انتخابی کشیدگی اپنے عروج پر
بے نظیر بھٹو ’بھٹو کا وارث بھٹو‘
بے نظیر بھٹو کے بعد نوڈیرو کے انتخابات
کلثوم نوازکلثوم بھی میدان میں
نواز شریف کی اہلیہ بھی انتخابی مہم میں شریک
خطرے کی گھنٹیاں
ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک کے انتخابی معرکے
حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ الیکشن
ق لیگ کےاہم رہنما پر مقابلہ پی پی،ن لیگ کا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد