زرداری کے خلاف تفتیش پر زور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کے وکلاء نے بدھ کو سؤٹزرلینڈ کی ایک عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے خلاف پچپن ملین ڈالر کے خُرد برد کے مقدمے کی سماعت کرے۔ گزشتہ دس سال سے زیادہ عرصے سے جنیوا کے عدالتی حکام ان الزامات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری نے سوئٹزرلینڈ کی کچھ کارگو کمپنیوں سے بھاری رشوت لی اور مذکورہ رقوم سوئٹزر لینڈ میں مختلف اکاؤنٹس میں چھپائیں۔ ستائس دسمبر کو قاتلانہ حملے میں بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین بنے اور بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے صدر پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے لیے نواز شریف کی جماعت کے ساتھ اتحاد کا عندیہ دیا ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ بدھ کو سماعت کے دوران پاکستانی حکومت کے سوئس وکلاء کا مؤقف تھا کہ گزشتہ سال صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے قومی مفاہمی آرڈینینس کے تحت آصف زرداری اور دیگر کے خلاف بدعنوانیوں کے مقدمات ختم کیے جانے کے باوجود جنیوا میں آصف زرداری پر رقوم خرد برد کرنے کے الزامات کی تفتیش جاری رہنی چاہئیے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے ابھی تک صدارتی آرڈینینس کی آئینی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ ریاست پاکستان کے سوئس وکلاء کا کہنا تھا پاکستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں متوقع ہے۔
جنیوا کی عدالت میں سوئس خاتون وکیل ڈومینیک ہینکوز نے کہا کہ ’ یہ چارج شیٹ آصف زرداری کے لیے کسی بم سے کم نہیں ہے۔ ان سمندر پار کمپنیوں کے کاغذات کے ہر صفحے پر آصف زرداری کا نام نام نظر آتا ہے۔ (جنیوا کے اکاؤنٹس) میں کم و بیش ساٹھ ملین فرینکس منجند کیے جا چکے ہیں۔‘ مرحومہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بدھ کو نوّے منٹ کی سماعت کے اختتام پر تین رکنی عدالت کے سربراہ جج نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی فیصلہ کریں گے کہ اس معاملے کو باقاعدہ عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا جائے یا اس پر مزید کام کرنے کی ہدایت کے ساتھ اسے واپس میجسٹریٹ کو بھیج دیا جائے۔ ریاستِ پاکستان کے سینئر وکیل جیکؤس پاتھن نے سماعت کے دوران کہا کہ ’آصف زرداری کے خلاف کمیشن لینے اور مذکورہ رقوم اکاؤنٹس میں جمع کرانے کے الزامات کے حوالے سے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ اس معاملے کی فوری کارروائی ہونا چاہئیے۔ان میں کچھ الزامات کی جانچ پڑتال پر لگی پابندی کی میعاد جولائی سنہ دو ہزار نو میں ختم ہو رہی ہے۔‘ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان آصف زرداری کے خلاف الزامات واپس لے لیتا ہے یا ان کے لیے معافی کا اعلان کر دیتا ہے تو پھر سوئٹزر لینڈ میں ان کے خلاف غبن کے الزامات کو ثابت کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ سوئس قانون کے تحت خرد برد کے الزمات ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ آصف زرداری کے وکیل سویرئیو لیمبو کا مؤقف ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈینینس پر پاکستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک ان کے مؤکل کے خلاف مقدمے کو معطل کیا جانا چاہئیے کیونکہ صدر مشرف کی طرف سے معافی کے تحت آصف زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ میں خُرد برد کے مقدمات میں عام معافی بھی شامل ہے۔ عدالت میں وکیل کا کہنا تھا کہ ’(پاکستان میں) یہ مقدمہ کسی سمت نہیں جا رہا۔ اس پر گزشتہ دس سال میں کوئی عدالتی حکم نہیں ہے۔ آخر کیوں؟ اس کا جواب باکل سادہ ہے۔۔۔۔ کیونکہ یہ سب سیاسی ہے۔‘ استغاثہ کے وکیل نےاس سے اتفاق کیا اور کہا کہ سوئس حکام کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ وکیل استغاثہ ڈینئل زپیلی کا کہناتھا کہ ’ اس بات کا تعین کرنا اہم ہے کہ آیا پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔ اس مسئلے پر پاکستان کے مؤقف کا انتظار کرنا چاہوں گا اور یہ جاننا چاہوں گا کہ آیا وہ ان الزامات کی پیروی کرنا چاہتا ہے جو اس نے آصف زرداری پر لگائے ہیں۔‘ جنیوا کی عدالت کو آصف زرداری کے وکیل کی اس درخواست پر بھی فیصلہ دینا ہے کہ میجسٹریٹ کو مزید گواہوں کے بیانات قلمبند کرنا چاہئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||