انتخابی مہم، زرداری کے لیے بڑا چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اکیاون سال عمر، تقسیم کے بعد کراچی میں سرمایہ کاری کرنے والے نوابشاہ کے سندھی زمیندار خاندان سے تعلق، جوانی میں پلے بوائے اور اقتدار میں آنے کے بعد مسٹر ٹین پرسنٹ کے القابات، مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم کے شوہر اور ایک فوجی بغاوت کا نشانہ بننے کے بعد پھانسی چڑھنے والے ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد‘۔ یہ تو آصف علی زرداری کا وہ تعارف ہے جو سب جانتے ہیں اور کل تک شاید اس کی بہت سوں کو بہت زیادہ پرواہ بھی نہیں تھی مگر بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد کے پاکستان میں اب جبکہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین ہیں تو بہت سوں کی ان پر نظر ہے اور ہو بھی کیوں نہ، ان کے ہاتھ میں نہ صرف پیپلز پارٹی کی باگ ڈور ہے بلکہ بھٹو خاندان کی سیاسی وراثت بھی ان کے پاس ہے۔ ان کے تعارف کے بعض پہلو اوجھل ہی رہے ہیں۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ سندھ کے سرسید اور سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی کی صاحبزادی آصف زرداری کی بڑی اماں (سگی ماں) ہیں جبکہ چھوٹی اماں (سوتیلی ماں) کوئی اور نہیں بلکہ پطرس بخاری اور آل انڈیا ریڈیو اور پھر ریڈیو پاکستان کے سینئر براڈ کاسٹر زیڈ اے بخاری کی بہن ہیں تو شاید کئی لوگوں کو حیرت ہو لیکن یہی سچ ہے۔ خاندان کے قریبی لوگوں کے مطابق آصف علی زرداری کی تربیت میں سگی اور سوتیلی دونوں ماؤں کا اہم کردار رہا ہے۔ اگرچہ ان کا سیاسی کیرئر تو 1987ء میں بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد شروع ہوا مگر پارٹی قیادت میں میں ان کا قابل ذکر کردار نہیں رہا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ بےنظیر بھٹو کو ماردیا گیا ہے اور کل تک ان کی قیادت میں چلنے والے آصف علی زرداری اب ان کی وصیت کے مطابق خود قائد ہیں اور کم سے کم اس وقت تک بھٹو خاندان کی سیاسی وراثت کے امین بھی ہیں جب تک بلاول بھٹو زرداری عملی طور پر قائد نہیں بن جاتے۔ لیاری کے ککری گراؤنڈ میں اپنی شادی کی تقریب سے لے کرگڑھی خدا بخش میں چہلم تک اپنی بیوی سے وفاداری کا برملا اعلان کرنے والے آصف زرداری اپنے نئے سیاسی کیرئر کے لیے کتنے موزوں ہیں؟ اس بات کے جواب لینے میں رحیم بخش آزاد کے پاس پہنچا جو لیاری میں رہتے ہیں، فیض احمد فیض کے شاگرد اور اردو، سندھی اور بلوچی زبان کے شاعر اور دانشور ہیں اور پیپلز پارٹی کے اس پہلے دفتر کے بانی بھی ہیں جس کا افتتاح 1967ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔ ان کا جواب تھا ’(ان کا پارٹی قیادت سنبھالنے کا) فیصلہ تو بہتر ہے کیونکہ پارٹی میں اور تو کوئی ایسا آدمی تھا نہیں۔ مخدوم امین فہیم یا دوسرے لیڈر جو ہیں وہ اس حیثیت کے لوگ تو ہیں لیکن پارٹی کو اس وقت پورے ملک میں منظم رکھنے کے لیے زرداری ہی واحد ایسا شخص ہے جو پارٹی کی قیادت کرسکتا ہے‘۔ آصف زرداری اپنے سیاسی کیرئر کے آغاز سے ہی متنازعہ رہے اور بیس برس پہلے شادی کے بعد انہوں نے بےنظیر بھٹو کے ساتھ دو بار حکومت کی لیکن ان حکومتوں کی برطرفی کے بعد ان پر کرپشن اور دوسرے الزامات کے تحت 18 مقدمات بنے۔ اگرچہ ان میں سے کوئی ثابت تو نہیں ہوا لیکن ان کی وجہ سے انہیں کل گیارہ سال جیل میں گزارنا پڑے۔ پاکستان میں کسی بھی دوسرے سیاسی رہنما نے اتنی طویل جیل شاید ہی کاٹی ہو۔ رحیم بخش آزاد کے مطابق آصف زرداری نے شادی کے کچھ عرصے بعد ہی بے نظیر بھٹو سے اپنی وفاداری کا ثبوت دے دیا تھا۔’جب بی بی پہلی بار وزیراعظم ہوئیں تھی تو اسے یہ پیشکش ہوئی تھی کہ وہ خود وزیراعظم بن جائے اور بےنظیر کو گھر بٹھا دے۔93ء کے ایک انٹرویو میں بھی بےنظیر بھٹو نے اس کا ذکر کیا تھا کہ آصف کو یہ پیشکش ہوئی تھا لیکن اس نے اسے ٹھکرا دیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے اندر نہ بکنے والا عنصر موجود تھا‘۔ لیکن پھر آصف علی زرداری کی شخصیت پچھلے دو عشروں میں اتنی متنازعہ کیوں رہی اور ان پر مالی کرپشن اور دوسرے جرائم کے الزامات کیوں لگے؟ رحیم بخش آزاد کا کہنا ہے کہ ’آصف کو اس بات کی بھی سزا ملی کہ وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا شوہر تھا اسی وجہ سے اسے باقاعدہ ایک مہم کے تحت بدنام کیا گیا۔ ان کا ایک خراب تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی گو کہ وہ ایسا نہیں ہے کوئی ثبوت اس کے خلاف پیش نہیں کیا جا سکا‘۔ رحیم بخش کے مطابق’پیپلز پارٹی کا عام ورکر بےنظیر سے اتنا جلدی نہیں مل سکتا تھا جتنا وہ آصف سے ملتا تھا، تو آصف میں یہ خوبی ہے کہ وہ ہمیشہ سے عام ورکر کے لیے دستیاب رہا ہے اور نچلی سطح کے جو ورکر ہیں ان کے ساتھ زیادہ تعلق آصف کا ہی رہا ہے خاص کر پیپلز پارٹی کے یوتھ اور سٹوڈنٹس ونگ کے ساتھ اس نے قریبی تعلق رکھا ہے‘۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس رحیم بخش آزاد سے متفق ہیں کہ ستائیس دسمبر کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے آصف زرداری سب سے موزوں شخص تھے بلکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید پارٹی کے ٹوٹنے کا زیادہ امکان ہوتا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’دیکھنا یہ ہے کہ کن لوگوں کو وہ مزید شامل کریں گے۔ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں اپنے فیصلوں کو منوانے کے لیے یہ بہت اہم ہے اور وہ خود فیصلے کیا کرتے ہیں، یہ بہت اہم چیز ہے اور اس کا سب سے بڑا ٹیسٹ جو ہے وہ الیکشن کے بعد آئے گا کہ وزیراعظم کا امیدوار کون ہوتا ہے‘۔ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آصف زرداری نے انتخابی مہم بھی شروع کردی ہے اور ٹھٹھہ میں جلسۂ عام سے خطاب کے بعد اب وہ پنجاب کے دورے پر ہیں۔ شاید یہ مہم ان کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’پاکستان بچانا ہےتو فوج کو جانا ہے‘12 February, 2008 | پاکستان بینظیر قتل: ’اصل سوال یہ ہے‘10 February, 2008 | پاکستان زرداری دورۂ پنجاب، تفصیلات خفیہ09 February, 2008 | پاکستان بینظیربھٹو کی جانشینی کا تنازعہ05 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||