بینظیر قتل: ’اصل سوال یہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں سکاٹ لینڈ یارڈ کی یہ رپورٹ کہ ’بینظیر بھٹو کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں بلکہ بم دھماکے کی شدت سے واقع ہوئی‘ بیشتر پاکستانی اخبارات میں شہہ سرخیوں سے شائع ہوئی ہے وہاں اکثر اخبارات نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ جاننے سے کہیں زیادہ اہمیت قاتلوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری سمیت ان کے اکثر ساتھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی لیڈر کے قتل کے بعد یہ جاننا کہ وہ کیسے قتل ہوئیں، ایک ثانوی معاملہ ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ انہیں قتل کرنے کا منصوبہ کس نے بنایا، قاتل سخت سکیورٹی کے باوجود ان تک کیسے پہنچ گئے، قاتل کون ہیں اور اس قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟ لیکن یہ سب کچھ معلوم کرنے کا اختیار سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کاروں کے اختیار اور دائرہ کار سے باہر تھا۔ اس پر پیپلز پارٹی کے رہنما کہتے ہیں کہ اگر حکومت قاتلوں کا پتہ چلانے میں سنجیدہ ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کو قاتلوں کا پتہ چلانے سے روکا گیا؟ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کاروں کا دائرہ کار محدود کرکے بینظیر بھٹو کی جانب سے سولہ اکتوبر کو صدر پرویز مشرف کو لکھے گئے خط میں جن چار افراد کی نشاندہی کی تھی انہیں بچانے کی کوشش کی کر رہی ہے۔ صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ قاتلوں کا پتہ چلانا پاکستانی تفتیش کاروں کا کام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی کئی بار کہ چکے ہیں کہ بینظیر کے قتل میں بیت اللہ محسود کا ٹولہ ملوث ہے۔
ظاہر ہے کہ جب ریاست کے سربراہ نے کہہ دیا کہ قاتل کون ہے تو کیا گریڈ بیس یا اکیس کا پولیس افسر انہیں غلط ثابت کرسکتا ہے؟ ایسی صورتحال میں تو پھر مزید تفتیش بے معنی ہو جاتی ہے۔ بیت اللہ محسود کو بینظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ ساز قرار دینے والے صدر صاحب کے بیانات کی گونج ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ حکومت اور طالبان شدت پسندوں میں صلح اور فائر بندی کے اعلانات سامنے آ گئے۔ کیا ایسے میں پھر یہ سوال نہیں اٹھتا کہ صدر پرویز مشرف بینظیر کے قاتلوں سے معاہدہ کر رہے ہیں؟ سوال اٹھتا ہے کہ ’وسیع تر قومی مفاد‘ میں اگر حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے درمیاں معاہدہ ہوتا ہے تو کیا پھر انہیں شامل تفتیش کیا جاسکے گا یا انہیں سزا مل پائے گی؟ پاکستان میں اعلیٰ شخصیات کے قتل، چاہے وہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ہوں یا فوجی صدر ضیاءالحق یا پھر میر مرتضیٰ بھٹو، کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹیاں اور کمیشن بنے ان کی رپورٹس تاحال سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی قاتلوں کی نشاندہی ہوئی۔ پاکستانی تفتیش کاروں کی اس روایت سے یہی خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بھی شاید ہی بے نقاب کیا جاسکے!! اس طرح کے خدشات سے قطعہ نظر بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب حالات انیس سو ستتر والے نہیں اور اگر بینظیر بھٹو کے قتل کی ہڈی کسی نے نگلنے کی کوشش کی تو اُسے اس کی قیمت ملکی سالمیت کے تار تار ہونے کی صورت میں چکانی ہوگی۔ جس طرح ضیاءالحق سےکسی نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر انہوں نے اپنا راستہ تو صاف کردیا لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھٹو کی قبر مہنگی پڑے گئی اب بھی کچھ لوگ ویسا ہی کہہ رہے کہ زندہ بینظیر کی نسبت مقتولہ بینظیر اسٹیبلشمنٹ کو بھاری پڑے گی !!۔ | اسی بارے میں ’سر کا زخم، بیرونی مواد نہیں تھا‘12 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ کا کردار محدود11 January, 2008 | پاکستان ’یہ قتل کا ایک سادہ معاملہ ہے‘12 January, 2008 | پاکستان ’بینظیر ورثاء چاہیں تو پوسٹمارٹم ہوگا‘13 January, 2008 | پاکستان حکومت کا طریقہ قتل پر زور14 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ کے چھ اہلکار واپس14 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم پھر پاکستان میں07 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||