سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم پھر پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں معاونت کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ٹیم کے تین ارکان جمعرات کو اسلام آباد پہنچے ہیں اور اس ٹیم کی قیادت میک برائن کر رہے ہیں۔ یہ غیرملکی ماہرین اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ساتھ مل کر وزارت داخلہ کو رپورٹ پیش کریں گے۔ سی سی پی او راولپنڈی سعود عزیز کے مطابق حکومت کو دی جانے والی رپورٹ میں ممکنہ طور پر یہ بتایا جائے گا کہ آیا جس مبینہ شخص نے بےنظیر بھٹو پر فائرنگ کی تھی کیا اسی نے ہی دھماکے سے اپنے آپ کو اُڑایا یا پھر فائرنگ کسی اور نے کی اور دھماکہ کسی اور نے کیا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص نے پہلے فائرنگ کی اسی شخص نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑایا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیشی ٹیم چار جنوری کو پاکستان آئی تھی اور اس نے لیاقت باغ واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں ہسپتالوں اور جائے حادثہ سے مختلف نمونے لیے تھے اور بعد ازاں انہیں لیبارٹریوں میں چیک کروانے کے لیے برطانیہ لے جایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم کے ارکان اس مبینہ خودکش حملہ آور کے ہاتھ کے نمونے اپنے ساتھ برطانیہ لے گئے تھے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر خودکش حملے میں استعمال ہونے والے بارود کے ذرات تھے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم میں تحقیقی اور فورنزک ماہرین شامل تھے جو تین ہفتے تک پاکستان میں موجود رہے اور اس دوران ہی حکومت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات کے سلسلے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے ساتھ معاہدہ طے پایا جس کے تحت سکاٹ لینڈ یارڈ نے صرف بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی اصل وجہ کے تعین کے لیے مدد فراہم کرنی ہے۔ ادھر نگران وزیر داخلہ لیفٹٹنٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم ملک میں ہونے والے عام انتحابات سے پہلے رپورٹ پیش کر سکے گی کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تفتیشی ٹیم کو جو گائیڈ لائنز دی ہے اس میں یہی کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات ایک ماہ کے اندر اندر مکمل کر لی جائیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد نواز نے حکومت کے اس بیان کو دہرایا کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کیس میں قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود ملوث ہے جبکہ مذکورہ قبائلی شدت پسند اس واقعہ میں ملوث ہونے کے بارے میں متعدد بار تردید بھی کر چکے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار ہونے والے دو مشتبہ افراد سے جو اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کی تحویل میں ہیں، بینظیر بھٹو قتل کیس کے حوالے سے انکشافات کی توقع ہے جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید نے کہا ہے کہ ان مشتبہ افراد سے تفتیش جاری ہے اور جونہی اس مقدمے میں پیش رفت ہوئی تو عوام کو اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اعتزاز شاہ اور شیر زمان نامی اشخاص کو شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم ابھی اس بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ افراد سانحہ لیاقت باغ میں ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کوسانحہ لیاقت باغ میں بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں متحدہ بھی یو این تحقیقات کی حامی31 January, 2008 | پاکستان انسدادِ دہشتگردی کے جدید آلات29 January, 2008 | پاکستان ’بین الاقوامی تفتیش ضروری ہے‘24 January, 2008 | پاکستان بینظیر کیس: مبینہ ملزمان ریمانڈ پر23 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ، زرداری ملاقات15 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ کے چھ اہلکار واپس14 January, 2008 | پاکستان حکومت کا طریقہ قتل پر زور14 January, 2008 | پاکستان ’یہ قتل کا ایک سادہ معاملہ ہے‘12 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||