BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بین الاقوامی تفتیش ضروری ہے‘
بینظیر بھٹو
تحقیقات کی حتمی ذمہ داری پاکستانی حکام کے ہاتھ میں ہے: ہیومن رائٹس واچ
انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کو بینظیر بھٹو کے قتل کی’ناقص‘ تفتیش کا حصہ نہیں بننا چاہییے اور اس واقعے کی آزادانہ بین الاقوامی تفتیش ضروری ہے۔

نیویارک سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں تنظیم نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کی موت کی تفتیش اقوام متحدہ جیسے کسی آزاد بین الاقوامی ادارے کے تحت کرائے۔

ہیومن رائٹس واچ نے مزید کہا کہ اس بات کے دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کی حکومت سیاسی قتل کے واقعات سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اکثر معاملات کی غیر جانبدارانہ تفتیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی درخواست پر برطانوی حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشتگردی کے شعبے کی ایک تفتیشی ٹیم چار جنوری کو پاکستان روانہ کر دی تھی۔

تاہم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے اختیارات محدود ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے یہ ٹیم ایک آزادانہ تفتیش نہیں کر سکتی۔ گیارہ جنوری کو ذرائع ابلاغ کو دی جانے والی تفصیلات کے مطابق مذکورہ ٹیم کا کام محض پاکستانی حکام کی ’مدد‘ اور ’معاونت‘ کرنا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ بینظیر بھٹو کی موت کا ’سبب‘ کیا تھا یعنی ان کی موت کس طرح واقع ہوئی۔

اس دستاویز کے مطابق بینظیر بھٹو کی موت کی ’تحقیقات کی حتمی ذمہ داری پاکستانی حکام کے ہاتھ میں ہو گی‘ جبکہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سینئر پاکستانی تفتیش کاروں کی ’مدد کرے گی اور انہیں جواب دہ ہو گی۔‘

تفتیش کا بُرا ریکارڈ
 پاکستان میں تفتیش کے بُرے ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک آزادانہ بین الاقوامی تفتیش ضروری ہے۔ اسے سے کم درجے کی تحقیقات سے پاکستان میں سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوگا اور عدم استحکام بڑھے گا
ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیائی امور کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے پریس ریلیز میں کہا کہ ’ سکاٹ لینڈ کو اس بات پر رضامند نہیں ہونا چاہیے کہ وہ صرف یہ دیکھے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کیسے ہوئی بلکہ اسے یہ تفتیش بھی کرنا چاہیے تھی کہ بینظیر بھٹو کو کس نے ہلاک کیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کو چاہیے کہ وہ ایک مشکوک قسم کی تفتیش پر مُہر لگا کر اپنی ساکھ کو خراب نہ کرے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی موت کی سرکاری تفتیش کو پاکستان میں زیادہ قبولیت نہیں ملے گی کیونکہ اکثر لوگ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت اور خفیہ اداروں نے بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں غفلت کا مظاہرہ کیا اور وہ باالواسطہ اس قتل میں ملوث ہیں۔ صدر پرویز مشرف ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور وہ اس قتل کا ذمہ دار القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کو قرار دیتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کے کھوج کو یقینی بنانے کے لیے اس واقعے کی آزادانہ بین لاقوامی تحقیقات کرانے پر رضامند ہو، چاہے قتل کے شواہد کسی بھی جانب اشارہ کر رہے ہوں۔

بریڈ ایڈمز کے مطابق ’ پاکستان میں تفتیش کے بُرے ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک آزادانہ بین الاقوامی تفتیش ضروری ہے۔ اسے سے کم درجے کی تحقیقات سے پاکستان میں سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوگا اور عدم استحکام بڑھے گا۔‘

اسی بارے میں
سی آئی اے کے الزام کی تردید
19 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد