BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی آئی اے کے الزام کی تردید

بینظیر بھٹو کے جلوس پر خود کش حملہ بھی ہوا تھا
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے امریکہ خفیہ ادارے سی آئی اے کی طرف سے لگائے جانے والے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے جس میں شدت پسندوں کے سربراہ بیت اللہ محسود کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔


تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے سنیچر کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے بتایا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری بیت اللہ محسود پر ڈالنا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی عسکریت پسندوں پر اس قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے سابق وزیراعظم کی ہلاکت کے حوالے سے جو نیا الزام عائد کیا ہے اس کا مقصد ان کے بقول امریکہ کی جانب سے قبائل کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے محض بہانہ تلاش کرنا ہے۔

 ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور اب بھی صاف الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں نہ تو بیت اللہ محسود ملوث ہیں اور نہ تحریک طالبان کا کوئی اور فرد، ہمارے خلاف صرف الزامات لگائے جا رہے ہیں جس کا حیقیقت سے کوئی تعلق نہیں
مولوی عمر

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور اب بھی صاف الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں نہ تو بیت اللہ محسود ملوث ہیں اور نہ تحریک طالبان کا کوئی اور فرد، ہمارے خلاف صرف الزامات لگائے جا رہے ہیں جس کا حیقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔‘

حکومت پاکستان نے بھی ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد بیت اللہ محسود کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حوالے سے جنگجو کمانڈر اور ان کے ساتھیوں کی ٹیلی فون پر گفتگو بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزیرستان میں حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے طالبان ترجمان نے پاکستان فوج کے اس دعوے کی بھی سختی سے تردید کی جس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو دنوں میں سکیورٹی فورسز کے حملوں میں نوے عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں۔

ان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دو سکاؤاٹس قلعوں پر حملوں کے دوران اب تک صرف دو جنگجو مارے گئے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دونوں قلعوں پر ان کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔

بینظیر بھٹو نے لیاقت باغ میں ماضی میں بھی تاریخی جلسے کیئے تھے

طالبان ترجمان نے ڈیرہ اسمعیل خان میں گزشتہ روز گرفتار ہونے والے مبینہ خودکش حملہ آور سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا جس کے بارے میں پولیس کا دعوی ہے کہ حملہ آور بیت اللہ محسود کا ساتھی ہے اور وہ بینظیر بھٹو کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

اس سلسلے میں جب نگران وزیرداخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز سے رابط کیا گیا تو انہوں نے ڈیرہ اسمعیل خان میں بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث کسی ملزم کی گرفتاری کی سختی سے تردید کی۔

تاہم بین الاقوامی خبرساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے ایف پی نے ایک نامعلوم اعلی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبے سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہفتے کو سکیورٹی حکام نے ایک پندرہ سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے جو ان کے دعوئے کے مطابق مبینہ طور پر بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھا۔

اس پندرہ سالہ لڑکے کا نام اعتزاز شاہ بتایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ اس پانچ رکنی گروہ کا رکن تھا جو ستائس دسمبر کو بینظیر قتل کے لیے راولپنڈی بھیجا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار ہونے والے لڑکے نے تفتیش کے دوران حکام کو بتایا ہے کہ بینظیر بھٹو پر گولی چلانےاور خود کش دھماکہ کرنے والے شخص کا نام بلال تھا جبکہ اکرام نامی شخص اس کی معاونت کر رہا تھا۔

خبر کے مطابق پولیس نے اعتزاز کے ساتھ ایک اور مبینہ دہشت گرد شیر زمان کو بھی گرفتار کیا ہے۔ گرفتاری کے وقت یہ دونوں ملزمان عاشورہ جلوس پر خود کش حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق اعتزاز نے دس محرم کو کسی ماتمی جلوس پر خود کش حملہ کرنا تھا جبکہ شیر زمان نے اس کو بارودی جیکٹ فراہم کرنا تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد