BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 January, 2008, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کیس: مبینہ ملزمان ریمانڈ پر

پاکستان پولیس(فائل فوٹو)
پیشی کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گیے تھے(فائل فوٹو)
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بدھ کو سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث اعتزاز شاہ اور شیر زمان کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

ملزمان کو بدھ کو سخت حفاظتی انتظامات میں بکتر بندگاڑیوں میں عدالت لایا گیا۔

ان افراد کو چند روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جب تک اس واقعہ کی تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی اس وقت تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ملزمان بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں۔

عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر سے کہا کہ وہ ملزمان کو دو فروری کو عدالت میں دوبارہ پیش کریں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کی پولیس نے تفتیش کے دوران ان دو ملزمان کی نشاندہی پر مزید تین مشتبہ افراد کوگرفتار کیا ہے۔

ان افراد سے پولیس اور حساس اداروں کے اہلکار پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور ان مشتبہ افراد کو آئندہ چند روز میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم مقامی پولیس ان افراد کی گرفتار ی کی تصدیق نہیں کر رہی۔

ان افراد کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں پولیس لائنز ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا گیا ہے جہاں پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان ان افراد سے تفتیش کریں گے۔

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی ماہرین ان مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق یہ غیر ملکی ماہرین اس واقعہ کی تحقیقات میں صرف تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت یہ الزام بھی عائد کر رہی ہے کہ سانحہ لیاقت باغ کو رونما ہوئے پچیس دن سے زائد ہوگئے ہیں لیکن پولیس نے ابھی تک اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش نہیں کیا جبکہ قانون کے مطابق دہشت گردی کے مقدمے کا چالان سات یوم کے اندر اندر عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
سی آئی اے کے الزام کی تردید
19 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد