’تفتیش جاری،حتمی الزام قبل ازوقت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کیس کے حوالے سے جن دو مشتبہ افراد کوگرفتار کیا گیا ہے ان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی حکام نے بیس جنوری کو کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے سلسلے میں ایک پندرہ سالہ لڑکے کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے وہ اس گروہ کا حصہ ہے جس کو بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ منگل کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سےگرفتار ہونے والے پندرہ سالہ لڑکے اعتزاز شاہ کے انکشاف کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اور شخص شیر زمان کو بھی گرفتار کرلیا ہے اور اس کے قبضے سے اسلحہ اور آتش گیر مواد بھی برآمد کر لیا ہے اور ان ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کو آج پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جو ان سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محرم الحرام کے دوران آٹھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے پانچ کراچی سے، تین حیدر آباد سے اور دو افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا گیا ہے۔
اس سوال پر کہ بےنظیر بھٹو نے اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والے خودکش حملوں میں جن افراد کے نام لیے گئے تو کیا انہیں بےنظیر قتل کیس کی تحقیقات میں شامل تفتیش کیا جائے گا، ترجمان نے کہا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں آنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم آئندہ چند یوم میں واپس پاکستان آئے گی اور تحقیقات کے حوالے سے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم کے ارکان ان دو مشتبہ افراد سے تفتیش کرنا چاہیں تو اس سلسلے میں آزاد ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بےنظیر قتل کے بعد ملک میں ہونے والے ہنگاموں اور لوٹ مار میں پیپلز پارٹی کے کارکن ملوث نہیں ہیں اور یہ کارروائی جرائم پیشہ عناصر کی ہے۔ واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ کے باہر ہونے والے اس سانحہ میں جس میں بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے چوبیس گھنٹے کے بعد وزارت داخلہ نے قتل کی تمام ذمہ داری قبائلی طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود پر ڈال دی تھی تاہم بیت اللہ محسود نے اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ | اسی بارے میں بینظیر قتل: ’ایک نوجوان گرفتار‘20 January, 2008 | پاکستان سی آئی اے کے الزام کی تردید19 January, 2008 | پاکستان بینظیر پر پہلے حملے کے ذمہ دار’گرفتار‘15 January, 2008 | پاکستان ’یہ قتل کا ایک سادہ معاملہ ہے‘12 January, 2008 | پاکستان تصاویر، وڈیوکلپس کا پھر سے جائزہ11 January, 2008 | پاکستان بینظیر کی ای میل کوبنیاد بنایا جائے05 January, 2008 | پاکستان ’تحقیقات میں مروجہ طریقے سےانحراف‘05 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||