حکومت کا طریقہ قتل پر زور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بات قدرے واضع ہوچکی ہے کہ حکومت پاکستان فی الحال پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی موت کی 'اصل وجہ' جاننے کی خواہاں ہے، اس میں ملوث افراد تک پہنچنے کی نہیں۔ یہ اندازہ کم از کم حکومت پاکستان اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو پڑھ کر ہوتا ہے۔ اس مختصر سمجھوتے کی تفصیلات اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئیں۔ معاہدے کی تفصیلات بظاہر سامنے آئی ہی برطانوی حکومت کی ایماء پر ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس کا اعلان اپنی پارلیمان میں کیا تھا جسے بعد میں انہوں نے عملی جامہ پہنایا۔ اس معاہدے کی تفصیل جاری بھی برطانوی ہائی کمیشن نے اسلام آباد میں کی۔ بعض لوگوں کے مطابق بات اگر حکومت پاکستان تک کی ہوتی تو یہ معلومات کبھی منظر عام پر نہ آتیں۔ پاکستانی بیوروکریسی کا آج تک طرہ امتیاز ہی عام سی بات کو بھی 'سرکاری' قرار دیتے ہوئے فائلوں کے انبار میں کہیں چھپانا رہا ہے۔ اسے ہمیشہ لوگوں کے ردعمل کا خوف رہا ہے۔ پسِ پردہ رہتے ہوئے جو جس کے دل میں آئے کرسکتا ہے۔ لوگوں کو پتہ چلا تو وہ پوچھیں گے ضرور۔ ان تفصیلات کا سامنے آنا بھی شاید اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے۔ خیر کس کس بات پر سر دھنیں گے۔ بات ہو رہی تھی برطانوی پولیس سے معاہدے کی۔ ساری دنیا میں کسی قتل کی تحقیقات مجرموں تک پہنچنے کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ بندہ ہلاک کیسے ہوا۔ لیکن پاکستان میں معاملات کو بظاہر مزید پیچیدہ بنانے کے لیئے تمام توجہ اور بحث کا موضوع تبدیل کرنے کے لیے حکومت بیرونی پولیس کی مدد حاصل کرکے شاید صرف یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کی بیظیر بھٹو کے قتل سے متعلق ابتدائی رپورٹ درست تھی۔ اس تمام انکوائری کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن بعض ماہرین کے مطابق کسی بھی تحقیقات کے دو بڑے اہم بنیادی تقاضے ہوتے ہیں یعنی جائے وقوعہ کا تفتیش کے لیئے تحفظ اور پوسٹ مارٹم۔ لیکن بینظیر کے قتل میں نہ تو جائے وقوعہ کا تحفظ کیا گیا اور نہ ہی پوسٹ مارٹم۔ دونوں نتیجہ خیز تفتیش کے لیے بنیاد مہیا کر سکتے تھے۔ صدر پرویز مشرف کہ چکے ہیں کہ اگر بینظیر بھٹو کے ورثاء اجازت دیدیں تو قبرکشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگانے کےلیے کہ بینظیر بھٹو کی موت گولی لگنے سے ہوئی یا نہیں پوسٹ مارٹم ضروری ہے اور وہ سو فیصد پوسٹ مارٹم کے حق میں ہیں۔ تاہم وہ سربراہ مملکت کی حیثیت سے پوسٹ مارٹم کا حکم نہیں دے سکتے کیونکہ اس سے ملک میں بدامنی پھیلے گی۔ صدر مشرف نے اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کے مطالبے کو بھی ’انتہائی مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں کوئی دوسرا ملک ملوث نہیں تو پھر کس طرح اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات ہوسکتی ہیں۔ ہلاکت کی وجہ تو شاید معلوم کرنا اتنا مشکل نہ ہو، لیکن اس کے در پردہ اس میں ملوث ہاتھ بےنقاب کرنا زیادہ اہم ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر بھی مطالبہ یہی کر رہے ہیں کہ اس میں ملوث افراد، اس کی منصوبہ بندی کرنے والے اور اسے عملی جامہ پہنانے والوں کو بے نقاب کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اگرچہ معاہدے میں براہ راست سکاٹ لینڈ یارڈ کی خدمات کے اخراجات کا ذکر تو نہیں لیکن یقیناً حکومت پاکستان نے ادائیگی کرنی ہوگی۔ برطانوی پاونڈز میں کافی خطیر رقم ہوسکتی ہے اور اس کا مقصد بظاہر صرف یہ ہے کہ حکومت نے ابتداء میں قتل کے بارے میں دو تین موقف تبدیل کرکے جو قلابازیاں کھائی تھیں ان کا مداوا ہوسکے۔ حکومت وجہ ہلاکت کی حد تک سرخرو ہوسکے۔ لیکن اس وقت بظاہر ریڑھا آگے، گھوڑا پیچھے بندھا دکھائی دے رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||