لاڑکانہ کا بلیک فرائڈے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل پر ہونے والے ہنگاموں کے بعد ان کےآبائی شہر لاڑکانہ میں بظاہر حالات معمول پر آ گئے ہیں مگر شہر کی زندگی کے بیشتر حصے اب بھی راکھ کے ڈھیر کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن کی باقیات کی تلاش کا کام جاری ہے۔ لاڑکانہ کے موہنجوداڑو ائرپورٹ پر بینظیر بھٹو صاحبہ کی میت اٹھائیس دسمبر کی پیلی صبح کو اتری تھی، سندھ میں اٹھائیس دسمبر کی صبح کو لوگ روشن صبح نہیں مانتے۔ سندھ کے دور دراز صحرائی علاقے عمرکوٹ سے نوڈیرو کے غم میں شرکت کےلیے آئے ایک سید گدی نشین کا ماننا تھا کہ اٹھائیس دسمبر کی صبح ان کے علاقے میں پرندے بھی خاموش تھے۔ نوڈیرو میں میت کی آمد اور گڑھی خدابخش میں قبر کی تیاری کے آنسو بھرے مناظر دیکھنے کے بعد ہم لاڑکانہ کی طرف روانہ ہوئے۔نوڈیرو سے صرف بیس کلومیٹر دور لاڑکانہ شہر صبح کو پانچ بجے خوفناک خاموشی اور آگ کے شعلوں میں لپٹا ہوا تھا۔ چوبیس گھنٹوں کی بھوک کی آگ چائے اور ناشتے سے بجھانے کے بعد دو مقامی دوستوں کی مدد سے گاڑی کو ایک دکان کے اندر تالا لگا کر محفوظ کیا۔موٹر سائیکل پر تینوں دوست بیٹھے تو یاد آیا کہ موٹر سائیکل میں پٹرول ناکافی ہے۔ کئی دوستوں کو فون ملانے اور منتوں کے بعد ایک پٹرول پمپ کے مالک کے گھر سے ہمیں ایک سو روپیہ لٹر تیل مل گیا۔ ہم نے غنیمت جانا اور ٹینک فل کروا لیا۔ گڑھی خدابحش کے سفر پر جانے کے لیے لاڑکانہ شہر کے ان سڑکوں چوراہوں سے گزرنا تھا جو مشتعل لوگوں کے کنٹرول میں تھے۔ لاڑکانہ کے سٹیشن روڈ کا رخ کیا جو شہر کی معروف ہوٹلوں اور بیکریوں کا مرکز ہے۔ سٹیشن روڈ عمارتوں اور گاڑیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں اور کنکریٹ پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔ چند لوگ عمارتوں کو آگ لگانے میں مصروف تھے اور سینکڑوں شہری وہ تماشہ دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ شہر کا پہلا فور سٹار ہوٹل ’سپنا اِن‘ بھی آگ کی لپیٹ میں تھا۔آگ کے شعلے ہوٹل کی عمارت کے نیچے بینک سے بھی نکل رہے تھے۔ چند قدم آگے اسی روڈ پر شہر کی خوبصورت سٹی بیکری جل رہی تھی۔ لاڑکانہ کے بیشتر بچوں کی وہ پسندیدہ بیکری تھی۔ لوگوں نےبتایا بیکری بند کردی گئی تھی مگر ہنگامہ کرنے والوں نے دروازوں کے تالے توڑ کر بیکری کو لوٹا اور آگ لگادی۔ بیکری سے چند قدم آگے دوسرا فور سٹار ہوٹل پیرس اِن مکمل طور پر محفوظ تھا۔ وجہ پوچھی تو لوگوں نے بتایا ہوٹل مالکان نے پیپلزپارٹی کا بڑا جھنڈا مرکزی دروازے پر لگا دیا اور ہوٹل بند کردیا تھا۔ لاڑکانہ اور سندھ میں اٹھائیس دسمبر اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کا ترنگہ جھنڈا گاڑیوں اور دکانوں کی تحفظ کا ضامن تھا۔گڑھی خدابخش پہنچنے والے کئی ٹی وی چینلز کی سیٹلائٹ بردار ٹرکوں پر پی پی کے بڑے بڑے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔ ہمارے موٹر سائیکل ڈرائیور دوست نے پیپلز پارٹی کا ایک چھوٹا سا جھنڈا لیا اور اپنے سر پر باندھ کر اپنی موٹر سائیکل اور ہماری تینوں جانوں کو محفوظ بنایا۔ لاڑکانہ کےہائیڈ پارک نما جناح باخ سے تھوڑا آگے بڑھے تو محکمہ تعلیم کے نائب ضلعی افسر کے دفتر کو مشتعل لوگ آگ لگانے میں مصروف تھے۔ عمارت کو آگ ان کے حساب سے مزے کی نہیں لگی۔ انہوں نے دفتر کے تمام کاغذات اور فائلوں کو اکٹھا کیا۔ تھوڑا پٹرول ڈالا اور دور ہٹتے ہوئے ماچس کی ایک تیلی پھینک دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ عمارت کی دوسری منزل تک پہنچ گئی اور لڑکوں نے جئے بھٹو اور مشرف مخالف نعرے لگائے۔ محکمہ تعلیم کے دفتر کےسامنے ہی سٹیٹ لائف کی وہ خوبصورت عمارت آگ کے شعلوں میں لپٹی ہوئی تھی جو شہر کی واحد پانچ منزلہ عمارت ہے اور جہاں کپمیوٹرائـزڈ شناختی کارڈ بنانے والے حکومتی ادارے نادرا کا دفتر بھی تھا۔ وہاں موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ لوگوں نے نادرا دفتر کو آگ لگانے سے قبل عمارت سے کمپیوٹر اور سٹیشنری باہر نکالی اور لوٹ کر اپنے گھر لے گئے۔ نادرا دفتر کے سامنے شہر کی قدیم لاڑکانہ بیکری محفوظ تھی۔مشتعل لوگوں کا سارا جمِ غفیر بیکری کے سامنے چوراہے پر موجود تھا مگر بیکری محفوظ رہی وہ کیسے ہوا؟ وجہ پوچھنے پر لوگوں نےبتایا کہ بیکری کی عمارت کی پہلی منزل سے بیکری کے تین محفاظوں نے شدید فائرنگ کی اور ان لوگوں کو منتشر کردیا تھا جو رات کو بیکری لوٹنے اور آگ لگانے کےلیے آئے تھے۔ قریب ہی جنرل پوسٹ آفس کی عمارت جلی ہوئی تھی۔ جی پی او کے سامنے ایک مزدور تنظیم کی طرف سے تعمیر کردہ اس نظامانی لیبر ہال کو آگ لگی ہوئی تھی، جہاں شہر کی اکثر سیاسی، سماجی اور ادبی تقاریب ہوا کرتی تھیں۔ لیبر ہال لوگوں کے ملنے جلنے کی ایک جگہ تھی مگر وہ بھی جل چکی۔ لیبر ہال کے انچارج خالد چانڈیو نے بتایا کہ لیبر ہال کے ایک حصے میں مزدوروں کے بچوں کے لیے ایک با رعایت کمپیوٹر ٹیوشن سینٹر بھی تھا۔لوگوں نے پہلے کمپیوٹر اور کرسیاں اور ائرکنڈینشڈ لوٹے ہیں بعد میں ہمارے سامنے لیبر ہال کی عمارت کو آگ لگا دی۔ خالد چانڈیو نے بتایا کہ چار دن بعد جب وہ متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے گئے تو پولیس نے ان سے چھ سو روپیہ خرچہ طلب کیا۔ انکار پر تھانے کے آٹھ چکر لگوائے۔ بعد میں پولیس کو مذکورہ رقم ادا کی گئی اور رپورٹ درج ہوئی۔ بیشتر بینک دفاتر کی موجودگی کے باعث جس چوراہے کو لاڑکانہ کا بینک سکوائر کہا جاتا ہے وہ اٹھائیس دسمبر کی دو پہر کو مشتعل لوگوں کےگھیرے میں تھا اور انہوں نے تمام بینک نذرآتش کردیے تھے۔ جب ہم تینوں موٹر سائیکل سوار اس چوراہے کےقریب پہنچے تو وہاں کے رہائشی کے ایک دوست نے آگے جانے سے منع کر دیا اور کہا گڑھی خدابخش آپ اس راستے سے نہیں جاسکتے کوئی اور متبادل دیکھیں۔ ہماری آنکھوں کےسامنے پولیس کی گاڑی نذرآتش کی گئی۔گاڑی میں سوار پولیس اہلکاروں نے ہاتھ اٹھاکر جئے بھٹو کےنعرے لگائے اور جان بچا کر وہاں سے کھسک گئے۔ بینک سکوائر پر آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والی میونسپل کی فائر برگیڈ کو نذر آتش کردیا گیا۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ شہر میں دو دنوں تک آگ نہیں بجھ سکے گی کیونکہ انہوں نےتمام فائر بریگیڈ گاڑیاں نذرآتش کردی ہیں۔ شہر کی تمام بینکوں، چند سرکاری دفاتر اور دکانوں سے اگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ وہ لاڑکانہ کا بلیک فرائڈے تھا جب جلی ہوئی عمارات سے نکلنے والا دھواں دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔ لاڑکانہ میں جلی ہوئی سٹی بیکری کے مالکان میں سے ایک سندھی میمن کو دل کا دورہ پڑچکا ہے جبکہ ایک بڑے میڈیکل سٹور کے مالک بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ایک جلے ہوئے کمپیوٹر سینٹر کے مالک دماغی توازن کھوچکے ہیں۔ ان کو علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ اپنے شہر کی جلی ہوئی داستان لاڑکانہ کے ادیبوں نے ابھی لکھنی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ گجرات کے چودھریوں نے سندھ اور خصوصی طور پر لاڑکانہ کے لوگوں کے زخموں پر لسانیت سے بھرے اشتہار کے ذریعے نمک پاشی کی ہے۔ ایک سندھی ادیب نے کہا کہ لاڑکانہ کے لوگوں نے اپنی بہن کے قتل کے سوگ میں ماتم کیا ہے اور ماتم کرنے والے اپنا ہی خون بہاتے ہیں۔ کسی اور کا نقصان نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ اٹھائیس دسمبر کو کسی کا پاسپورٹ یا شناختی کارڈ دیکھ کر نقصان نہیں کیاگیا۔ لاڑکانہ کی جلی ہوئی عمارات دیکھ کر لوگوں کو ذوالفقار علی بھٹو کا وہ دور اقتدار یاد آرہا ہے جب ان کےمخالفین نے ان کے اوپر لاڑکانہ کو پیرس بنانے کا الزام لگایا تھا۔ایک لکھاری نے کہا بھٹو کا وہ پیرس آج بینظیر کے قتل کے بعد بیروت بن چکا ہے۔ جلتے ہوئے لاڑکانہ سے بڑی مشکلات کے بعد راستہ ملا اور ہم گڑھی خدابخش بھٹو کے قبرستان میں ہونے والے ماتم کی طرف یہ سوچ کر بڑھے کہ کیا لاڑکانہ کے اوپر ساری قیامت اس جمعہ کو ہی ٹوٹ پڑنی تھی۔ |
اسی بارے میں ’ہنگاموں میں اکاون لوگ ہلاک ہوئے‘02 January, 2008 | پاکستان پرتشدد احتجاج میں کمی30 December, 2007 | پاکستان ’فوج استعفٰی دینے پر مجبور کرے‘03 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||