متحدہ بھی یو این تحقیقات کی حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا میں جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزب مخالف کی بیشتر جماعتوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی پاکستانی حکام کے ہاتھوں تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان میں معمول کی کارروائی روک کر بینظیر بھٹو کے قتل پر بحث کی گئی اور ایوان کی دونوں جانب کے اراکین نے بینظیر بھٹو کو ایک قومی لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خلاء شاید ہی پر ہوسکے۔ بحث کے دوران مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کے معاملے کی حمایت یا مخالفت سے گریز کیا لیکن حکومتی اتحاد کی ایک جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے حزب مخالف کے اس مطالبے کی حمایت کی۔ ایوان بالا میں بحث کے دوران حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے پاکستان کی مقتول سابقہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کو قومی نقصان قرار دیتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بینظیر بھٹو وفاق پاکستان کی علامت تھیں۔ سینیٹ میں قائد حزب مخالف اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کا پیغام واضح تھا کہ وہ سیاست سے فوج کی مداخلت ختم کرنا چاہتی تھیں اور انہوں نے تیس برس تک فوج سمیت تمام اداروں کو جمہوری اداروں کے تابع کرنےکے لیے جدوجہد کی۔ رضا ربانی نے کہا کہ انہیں پاکستانی تفتیش کاروں پر اعتماد نہیں ہے اور وہ ان کی تحقیقات کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے جانچ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ کا پتہ چلانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ’دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ان قوتوں کی کارروائی ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں یا ایسے عناصر کی جو پاکستان میں آئین کی حکمرانی اور جمہوریت کی بحالی دیکھنا نہیں چاہتے‘۔ رضا ربانی نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ’محترمہ کے قتل میں پاکستان کی سرحدیں تبدیل کرنے والی قوتیں ملوث ہیں یا کہ پاکستان کو غیر جوہری بنانے والی فورسز؟‘۔
سینیٹ میں مسلم لیگ (ق) رکن لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی نے کہا کہ انہوں نے سینئر فوجی افسر کے طور پر چار وزرائےاعظم کے ساتھ کام کیا لیکن ان سب سے زیادہ ذہین، محنتی اور قوت فیصلہ رکھنے والی وزیراعظم بینظیر بھٹو تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بینظیر بھٹو کی ویسے تو متعدد کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں لیکن میری نظر میں ایک بہت بڑی کامیابی گائیڈڈ میزائل پروگرام کی فراہمی ہے اور وہ ہی پاکستان کے میزائل پروگرام کی بانی ہیں‘۔ جاوید اشرف قاضی نے انکشاف کیا کہ جوہری پروگرام کے بعد فوج ’ان گائیڈڈ، میزائل کے حصول کا سوچ رہی تھی لیکن بینظیر بھٹو نےکہا کہ اس کے لیے گائیڈڈ میزائیل سسٹم ہونا چاہیے اور انہوں نے وہ فراہم کر دیا‘ ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ تھے تو اکثر بینظیر بھٹو سے ان کا واسطہ پڑتا تھا اور انہوں نے ہمیشہ محترمہ کو ملکی ترقی اور قوم کی خوشحالی کے لیے فکرمند پایا۔ ’جو لوگ بینظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک کہتے رہے وہ پاکستان کے دشمن تھے کیونکہ بینظیر بھٹو وفاق کی علامت تھیں اور پاکستان کے سیاسی افق کا ایک چمکتا ستارہ تھیں‘۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قاتل بے دماغ اور پاگل لوگ ہی ہوسکتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بابر غوری نے بھی بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کا جو خیر مقدم ہوا اس سے پاکستان پر طاری سیاسی جمود ٹوٹ گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کے خیر مقدمی جلوس پر حملہ ہوا تو الطاف حسین نے بینظیر بھٹو سے فون پر بات کی اور اتفاق کیا کہ پرانی رنجشیں بھلا کر صوبے کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں گے۔ بابر غوری نے کہا کہ کچھ عناصر کو یہ بات چیت بھی اچھی نہیں لگی کیونکہ صوبے کی دو بڑی قوتوں میں ہم خیالی پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت سکاٹ لینڈ یارڈ کو تحقیقات کے لیے بلاسکتی ہے تو پھر ایسے اقدامات سے کیوں گریزاں ہے جس سے بینظیر بھٹو کے اہل خانہ، پارٹی اور کارکنوں کو اطمینان ہو۔ سینیٹ میں مسلم لیگ نواز کے اسحٰق ڈار اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم مندو خیل سمیت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرائی جائے کیونکہ ان کے بقول پاکستانی ادارے لیاقت علی خان سمیت کسی بھی اہم شخصیت کے قتل کا معاملہ حل نہیں کرسکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جب سینیٹ کا اجلاس ہوا تھا تو سابقہ وزیراعظم کے لیے فاتحہ اور قتل کی مذمت کی متفقہ قرار داد منظور کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں صدر مشرف صحافی پر برس پڑے 25 January, 2008 | پاکستان ’اپنے ہی شہر اجنبی بن گئےتھے‘04 January, 2008 | پاکستان الیکشن ملتوی ہونے کا امکان 01 January, 2008 | پاکستان بلاول چیئرمین، الیکشن میں شرکت31 December, 2007 | پاکستان انتخابات کا حتمی فیصلہ آج، انعقاد میں’چند ہفتے‘ کی تاخیر کا خدشہ31 December, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی: انیس سالہ بلاول چیئرمین، الیکشن لڑنے کا اعلان30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||