انتخابات کا حتمی فیصلہ آج، انعقاد میں’چند ہفتے‘ کی تاخیر کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں آٹھ جنوری کے عام انتخابات کے التواء سے متعلق فیصلہ (کل) منگل تک ملتوی کر دیا ہے۔ دوسری جانب نگران وفاقی کابینہ نے بھی انتخابات سے متعلق فیصلہ انتخابی کمیشن پر چھوڑ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا ایک ہنگامی اجلاس پیر کو اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد کمیشن کے سیکٹری کنور دلشاد نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیشن نے چاروں صوبوں کے چیف سیکٹریز سے امن عامہ کی صورتحال اور صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر سے انتخابات کی تیاری سے متعلق رپورٹس طلب کر لی ہیں جس کی بنیاد پر منگل کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ملک کی مجموعی صورتحال اور باالخصوص عام انتخابات کے حوالے سے حالات پر غور کے لیے نگران وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ انتخابی کمیشن ہی زمینی حقائق کی بنیاد پر انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا بنیادی ادارہ ہے۔ نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو کی صدارت میں منعقد اجلاس کو بتایا گیا کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد ملک میں ہونے والے ہنگاموں میں صرف پاکستان ریلویز کو بارہ ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے اور ریلوے سگنل اور مواصلاتی نظام کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں فوج کی تعیناتی کے بعد صورتحال بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے تاہم اس دوران سرکاری پراپرٹی اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچ چکا ہے، عوام کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، مینو فیکچرنگ، محصولات اور برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان ریلویز کو بہت بھاری نقصان ہوا ہے اور ریلوے انجنز اور بوگیاں جلائی گئی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس دوران بیس ریلوے انجن جلائے گئے جبکہ ایک انجن کو جزوی طور پر جلایا گیا، اس سے ایک ارب 98 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ سکھر اور کراچی ڈویژن میں ریلوے کے مواصلاتی نظام کو 88 کروڑ 40 کروڑ کا نقصان ہوا جبکہ کراچی اور سکھر ڈویژن میں سگنلنگ کے نظام کو 91 کروڑ 40 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے، 140 ریلوے کی بوگیاں مکمل طور پر جبکہ 17 جزوی طور پر جلائی گئیں جس سے 8 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریلوے کو مجموعی طور پر اس دوران 12 ارب 38 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پورے ملک کو پٹرولیم مصنوعات اور اشیاءخوردونوش کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، ٹیلیفون ایکسچینجوں اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کو جلایا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونیوالے ملک گیر ہنگاموں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تاہم اتوار کو جلاؤ، گھیراؤ اور لوٹ مار کے مبینہ واقعات میں کافی کمی واقع ہوئی۔
انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں دس اضلاع میں انتخابی عمل کو انتہائی شدید دھچکہ لگا ہے۔ کنور دلشاد کے مطابق تمام ریکارڈ اور انتخابی مواد کو نذر آتش کر دیا گیا ہے جس سے وہاں انتخابی عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سخت شیڈول کے باوجود بیلٹ پیپرز کی اشاعت رک گئی ہے۔ ’تین روز تمام سرکاری دفاتر کے بند ہونے سے انتخابی تیاریاں متاثر ہوئی ہیں۔‘ اتوار کو بینظیر بھٹو کے سوئم کے بعد نوڈیرو میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول زرداری کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کرنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ انتخابات میں حصہ لے گی۔ چیئرمین بنائے جانے کے بعد انیس سالہ ’بلاول بھٹو زرداری‘ نے اپنی مختصر تعارفی تقریر میں کہا کہ وہ اپنی ماں کی طرح وفاق کی علامت بنیں گےاور اپنی ماں کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ واضح رہے کہ نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو کہہ چکے ہیں کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں تو الیکشن وقتی طور پر ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔
ادھر مسلم لیگ (ق) کا کہنا ہے کہ وہ کل بھی انتخابات ہو تو اس میں حصہ لینے کے لیئے تیار ہیں۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ انہیں انتخابات جب بھی ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بی بی سی سی بات کرتے ہوئے وہ اس بات پر بھی تیار نہیں تھے کہ وقت مقررہ پر انتخابات سے پیپلز پارٹی کو ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔ ’صرف ان کے ووٹر جو پہلے نہیں دینا چاہ رہے تھے وہ ووٹ دیں گے۔ ہمارے ووٹر ہماری کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔‘ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے قتل پر الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم گزشتہ روز نوڈیرو میں آصف علی زرداری کی اس درخواست کے بعد کہ مسلم لیگ نواز کو انتخابات میں حصہ لینا چاہیئے، نواز شریف کے ایک معتمد صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ اب مسلم لیگ (نواز) بھی انتخابات میں حصہ لے گی۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ (نواز) کا اجلاس بھی آج لاہور میں ہو رہا ہے جس کے بعد پارٹی کی جانب سے باقاعدہ اعلان کی ہے۔ تاہم بعض عناصر انتخابات کے چند ہفتوں کے لیئے ملتوی کیئے جانے کے خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت نے تاہم گیند اب الیکشن کمیشن کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ |
اسی بارے میں پیپلز پارٹی: انیس سالہ بلاول چیئرمین، الیکشن لڑنے کا اعلان30 December, 2007 | پاکستان انتخاب کی نئی تاریخ کا مطالبہ28 December, 2007 | پاکستان بھٹو کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج27 December, 2007 | پاکستان نگرانی کیلیے تیار لیکن مطمئن نہیں26 December, 2007 | پاکستان ’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘26 December, 2007 | پاکستان حتمی فہرستیں: نو ہزار سے زائد امیدوار 17 December, 2007 | پاکستان انتخابات، جماعتیں اور منشور17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||