انتخاب کی نئی تاریخ کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے انتخابات کی نئی تاریخ کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے یہاں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے تحت ایسی کوئی کانفرنس نہ صرف بےفائدہ اور بے نتیجہ بلکہ مزید انتشار کا باعث ہوگی۔ انہوں نے صدر پرویز مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینٹ کے چیئرمین کو عبوری صدر بنایا جائے اور ساتھ ہی عبوری حکومت تشکیل دی جائے، عدلیہ کی آذادی کو یقینی بنایا جائے، معزول چیف جسٹس کو بحال کیا جائے اور تین نومبر کے بعد میڈیا قوانین میں ترامیم کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے آذاد انتخابی کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی نے واضع کیا کہ صدر مشرف کی طلب کردہ کسی کل جماعتی کانفرنس میں وہ شریک نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کو کوئی اختیار نہیں ہوگا لہذا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میاں محمد سومرو کی تعیناتی ہی متنازعہ ہے تو انہیں ایسی کوئی کانفرنس طلب کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ حزب اختلاف کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ اس کا فیصلہ اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی نے تاہم عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام سے بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبے کے بارے میں لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ’چوروں کی نانی کو اگر پکڑ لیا جائے تو سب پکڑے جائیں گے۔‘ |
اسی بارے میں بھٹو کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج27 December, 2007 | پاکستان سندھ سے تیس خواتین امیدوار ہیں27 December, 2007 | پاکستان الیکشن پر فیصلہ ابھی نہیں: کابینہ28 December, 2007 | پاکستان ’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘26 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||