پیپلز پارٹی: انیس سالہ بلاول چیئرمین، الیکشن لڑنے کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول زرداری کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کیا ہے اور پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نو ڈیرو میں پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا ہے کہ بلاول زرداری نئے چیئرمین اور آصف زرداری شریک چیئرمین مقرر کیےگئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لےگی اور وہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ بھی ایسا کرے۔ بلاول زرداری نےاس موقع پر کہا کہ وہ اپنی ماں کی طرح وفاق کی علامت بنیں گےاور اپنی ماں کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نےاس موقع پر کہا کہ ان کے بیٹےنےاپنا نام بلاول علی زرداری سے تبدیل کر کے بلاول بھٹو زرداری رکھ لیا ہے۔ آصف زرداری نے پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ سے درخواست کی جائے کہ بینظیر بھٹو کےقتل کی تحقیات اسی انہی بنیادوں پر کرائی جائے جس طرح رفیق حریری کے قتل کی کروائی جا رہے ہے۔
امین فہیم نے کہا کہ اجلاس میں بینظیر بھٹو کی وصیت پڑھی جس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر آصف زرداری اپنا جانشین نامزد کیا تھا لیکن آصف زرداری نے اپنے بیٹے کے حق میں دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول زرداری اور دونوں بیٹیوں نے پارٹی کی خصوصی دعوت پر مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کی۔ آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق پر یقین رکھتی ہے اور جن لوگوں نے یہ نعرہ لگایا کہ پاکستان نہ کھپے (پاکستان نامنظور) ’ان کو میرا جواب ہے پاکستان کھپے (پاکستان منظور ہے)۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماء اور سابق وزیر اطلاعات طارق عظیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتخابات چند ہفتوں تک کے لیے ملتوی ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات آٹھ جنوری کو ہوئے توان کی کوئی ساکھ نہیں ہو گی۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے کہا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو وہ انتخابات کے بائیکاٹ سے متعلق اپنے فیصلے پر غور کرے گی۔ پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران بھٹو ہاؤس کے باہر موجود پی پی پی کے کارکنوں کی ایک ٹولی ’ملک کی مجبوری ہے، صنم بھٹو ضروری ہے‘ کے نعرے لگا رہی تھی۔ نوڈیرو میں موجود ہمارے نامہ نگار کےمطابق ملک کےمختلف حصوں سے آئے ہوئے سینکڑوں پی پی پی کارکنوں نے قرآن خوانی میں شرکت کی ۔ بینظیر کی رسم سوئم کے موقع پر بھٹو ہاؤس کے اندر اور باہر بدنظمی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ پہلے سےاعلان شدہ پروگرام کےمطابق قرآن خوانی کے بعد لنگر تقسیم کیا گیا جس کے فوری بعد پاکستان پیپلز پارٹی کےسب سے بڑے پالیسی ساز ادارے مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس شروع ہو گیا۔ رسمِ سوئم کے بعد پارٹی قیادت کے لیے بینظیر بھٹو کا وصیت نامہ پڑھ کر سنایا گیا۔ ملک بھر خصوصاً صوبہ سندھ میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انتخابات کے انعقاد کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان الیکشن کمیشن نے پیر کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ آٹھ جنوری کے عام انتخابات کو اگرچہ اب صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں، لیکن سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کی ایک قاتلانہ حملے میں ہلاکت کے بعد ان کا انعقاد غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
دوسری جانب سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی عام انتخابات محرم الحرام کے بعد منعقد کرانے کے حق میں ہیں۔ نگران حکومت اب تک کہتی رہی ہے کہ اس کا انتخابات ملتوی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کے مشورے سے کیا جائے گا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ انتخابات کی تیاریوں کو سندھ کے ہنگاموں سے شدید دھچکا لگا ہے جبکہ بقول اس کے کرم ایجنسی اور سوات میں بھی حالات کوئی زیادہ سازگار نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||