’بینظیر ورثاء چاہیں تو پوسٹمارٹم ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر بینظیر بھٹو کے ورثاء اجازت دیں تو بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جانا چاہیے۔ امریکی میگزین نیوز ویک کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر مشرف نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ بینظیر بھٹو کی موت گولی لگنے سے ہوئی یا نہیں، لاش کا پوسٹ مارٹم ہونا ضروری ہے۔ جنرل مشرف نے ایسی اطلاعات کو لغو قرار دیا جن میں شبہ ظاہر جا رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت بینظیر بھٹو کے قتل میں شریک ہو سکتی ہے۔ بینظیر بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا اصرار ہے کہ بینظیر بھٹو گولی لگنے سے ہلاک ہوئی جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ بینظیر بھٹو کی موت گاڑی کے سن روف لیور سے سر ٹکرانے سے واقع ہوئی۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ اس بات کے سو فیصد حق میں ہیں کہ بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے۔ انہوں نے البتہ واضح کیا کہ وہ لاش کا پوسٹمارٹم کرانے کے لیے کوئی انتظامی حکم جاری نہیں کریں گے کیونکہ اس سے ملک میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم ان کے ورثاء کی اجازت سے ہی ہو سکتا ہے لیکن انہیں پتہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے ورثاء اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ کچھ غلط نہیں ہے۔
بینظیر بھٹو کا خاندان واضح کر چکا ہے کہ اگر بینظیر بھٹو کے قتل کی انکوئری اقوام متحدہ سے کرائی جائے تو وہ لاش کے پوسٹ مارٹم کی اجازت دیں گے۔صدر مشرف پہلے ہی اقوام متحدہ سے انکوائری کرانے سے انکار کر چکے ہیں۔ صدر مشرف کا کہنا ہے کہ لبنانی رہنماء رفیق ہریری اور بینظیر بھٹو کے قتل میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں کسی دوسرے ملک کے ملوث ہونے کا الزام نہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں بینظیر بھٹو کے قتل سے سیاسی فاہدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ صدر مشرف نے فرانسیسی اخبار لی فگاروں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ پاکستان کی مزید امداد نہیں کرنا چاہتا تو اسے مدد کے لیے دوسرا حلیف تلاش کرنا ہو گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ پر اثر پڑے گا۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’ گزشتہ چھ برس کے دوران ہمیں (امریکہ کی جانب سے) کل نو ارب ڈالر کے قریب ملے ہیں جن میں سے نصف سے زائد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔اگر امریکی مزید امداد نہیں کرنا چاہتے تو انہیں دوسرا حلیف تلاش کرنا ہوں گا لیکن خیال رہے کہ اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی۔‘ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت امریکی امداد کے بغیر بھی اپنے پیروں پر کھڑی رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر امداد نہ ملی تو پاکستان ختم ہو جائے گا؟ ہمارے معاشی حالات اب بہتر ہیں‘۔
پاکستان میں خودکش حملوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف القاعدہ کی مہم ہے تاہم’ ان کے پاس اتنی قوت نہیں کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کر سکیں۔ ان کے خود کش حملوں سے عوام کی دل شکنی ہوتی ہے اور ملک میں بے چینی پھیلتی ہے لیکن پاکستان کسی طرح بھی انتشار کا شکار نہیں ہے‘۔ یاد رہے کہ پاکستانی صدر نے جمعرات کو سنگا پور کے ایک روزنامے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی علاقوں میں انتہاپسندوں کے خلاف اتحادی افواج کی کارروائی پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگی اور اسے ملکی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہاں اس وقت تک کوئی نہیں آئے گا جب تک ہم انہیں آنے کو نہیں کہیں گے اور ہم نے انہیں ایسا کچھ نہیں کہا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’ہو سکتا ہے بینظیر کو گولی لگی ہو‘06 January, 2008 | پاکستان استعفے کو ترجیح دوں گا: مشرف11 January, 2008 | پاکستان ’امداد بند کرنی ہے تو کوئی اور حلیف ڈھونڈیں‘12 January, 2008 | پاکستان ’یہ قتل کا ایک سادہ معاملہ ہے‘12 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||