BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 January, 2008, 00:53 GMT 05:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہو سکتا ہے بینظیر کو گولی لگی ہو‘
 بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو اپنے ہلاکت کی ذمہ دار ہیں، انہیں گاڑی سے سر نہیں نکالنا چاہیے تھا: مشرف
پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بےنظیر بھٹو کے سر کے زخم کی وجہ گولی لگنا بھی ہو سکتی ہے۔

صدر جنرل(ر) مشرف نے یہ انٹرویو امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کو دیا جو اتوار کو نشر کیا جائے گا۔ نیوز چینل نے اپنی ویب سائٹ پر مختصراً انٹرویو کی جھلکیاں پیش کی ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق صدر مشرف نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ بے نظیر بھٹو کے سر میں زخم گولی لگنے سے آیا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے نظیر بھٹو کی جان کو خطرہ تھا اور اس لیے جتنی سکیورٹی کسی اور کو دی جاتی ہے اس سے زیادہ ان کو دی گئی تھی۔

انٹرویو کی تفصیلات کے مطابق صدر(ر) مشرف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی موت کی ذمہ دار وہ خود ہیں کوئی اور نہیں۔ ٹی وی چینل نے صدر کے حوالے سے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔

امریکی رائے عامہ
پاکستانی سیاستدانوں میں امریکی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کا رجحان ہے جس میں پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحان بے نظیر بھٹو کی زندگی میں اس وقت شروع ہو گیا تھا جب وہ وطن واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے کہا کہ گولی لگنے والی بات اور یہ کہ بے نظیر کو گاڑی سے سر نہیں نکالنا چاہیے تھا امریکی ذرائع ابلاغ بھی کہتے رہے ہیں۔

نامہ نگار نے بتایا کہ مشرف حکومت پر سب سے زیادہ تنقید اس وقت ہوئی جب حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ بے نظیر بھٹو کی موت کی وجہ ان کے سر کا گاڑی کے سن روف سے ٹکرانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے مشرف نے یہ بیان دیا کہ وہ تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد مانگی گئی ہے صدر بُش اور ان کی انتظامیہ پورے زور شور سے ان کی حمایت کر رہی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ دو روز پہلے صدر بُش نے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ سے صدر مشرف کے حمایتی رہے ہیں۔ دونوں صدور بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے لیے القاعدہ کے ملوث ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ حتمی طور پر تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔

برجیش نے ایک سوال کے جواب میں کہ یہ کہنا درست ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں میں امریکی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کا رجحان ہے جس میں پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحان بے نظیر بھٹو کی زندگی میں اس وقت شروع ہو گیا تھا جب وہ وطن واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔

نامہ نگار نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے اپنے مضمون لکھا ہے کہ ان کے خاندان نے پاکستان اور پیپلز پارٹی کو بچانے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ آصف زرداری نے یہ بھی لکھا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اسی وقت ممکن ہیں جب ملک میں ایک غیرجانبدارانہ حکومت بحال کی جائے گی۔ اسی طرح کی بات کچھ روز پہلے نواز شریف کی طرف سے بھی واشنگٹن پوسٹ میں ہی کہی گئی تھی جس میں انہوں نے کل جماعتی قومی حکومت کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
فوج کی جانب سے قبر پر پھول
30 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد