BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 23 February, 2008 - Published 14:05 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی حکومت: امید کی ایک کرن

پرویز مشرف
دیکھنا یہ ہے کہ پرویز مشرف اپنی شکست کو کتنی خوشدلی سے تسلیم کرتے ہیں
آصف زرداری اور نواز شریف کے مخلوط حکومت کی طرف بڑھتے ہوئے قدم پاکستان کوسیاسی بحران سے باہر نکالنے اور ملک کو پٹری پر لانے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نیا اتحاد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہے۔ پی پی پی بائیں بازو کے رجحانات والی جماعت ہے اور اس کی سربراہی مرحومہ بینظیر بھٹو کے شوہر کر رہے ہیں، جبکہ مسلم ليگ ن کی ڈور نواز شریف کے ہاتھوں میں ہے۔ پی پی پی کو حالیہ عام انتخابات ميں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل ہوئی تھیں جبکہ مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر رہی۔

اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مجوزہ اتحاد کو حکومت سازی کے بعد بھی پرویز مشرف اور خفیہ ایجنسی کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پرویز مشرف کے بعض ایجنٹس، جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے، خفیہ طریقے پر آصف زرداری پر اس بات کا زور ڈال رہے ہیں کہ وہ ملک کی سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مخلوط حکومت بنائیں۔

زرداری بھی ججوں کی بحالی کے حامی ہيں لیکن وہ اپنی رفتار آہستہ رکھنا چاہتے ہیں

نواز شریف نے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جلد سے جلد ان ججوں کی بحالی کی اپیل کی جنہیں جنرل پرویز مشرف نے برطرف کر دیا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ زرداری سے صلاح و مشروے کے بعد انہوں نے اپنا رویہ نرم کر لیا ہے۔ زرداری بھی ججوں کی بحالی کی حمایت کرتے ہيں لیکن اپنی رفتار آہستہ رکھنا چاہتے ہیں۔

آصف زرداری فوری طور پر فوج اور صدر مشرف کے نزدیکی لوگوں کو ناخوش نہيں کرنا چاہتے۔

حالات کچھ اس طرح نظر آ رہے ہیں کہ جیسے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے اور اسے اس بات کا یقین دلائيں گے کہ فوج حکومت کی کارکردگی خراب کرنے کا کام نہیں کرے گی تو صدر مشرف کا کردار خود بخود چھوٹا اور کمزور ہو جائے گا۔

لیکن مشرف کا کمزور کردار شاید امریکہ کو اتنا اچھا نہ لگے کیونکہ وہ مشرف کے علاوہ کسی پاکستانی پر یقین نہیں کرتا۔

امریکہ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ خطے میں نئی حکومت کا کس حد تک خیر مقدم کیا جا تا ہے۔

نواز شریف نے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ججوں کی جلد از جلد بحالی کی اپیل کی

ادھر افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو بھی اس بات کی امید ہے کہ پاکستان نے جن طالبان کو پناہ دی ہے ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ حامد کرزئی کے پی پی پی، اے این پی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے ساتھ اچھے تعلقات تو ہیں ہی۔

ہندوستان اس بات کی امید کرے گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جا سکے۔

ایران کو بھی اس بات کا کسی قدر اندیشہ ہوگا کہ کہيں پاکستان امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف کوئی ’ڈیل‘ نہ کر لے۔

روس، چین، اور دیگر پانچ سینٹرل ایشیائی ممالک کی جانب سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ نئی حکومت کی حمایت اس امید میں کریں گے کہ اس سے خطے میں استحکام آئےگا ۔

یہ کہنا غلط نہيں ہو گا کہ حالیہ انتخابی نتائج سے پاکستان کو کافی فائدہ پہنچے گا لیکن اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہے کہ پرویز مشرف اپنی شکست کو کتنی خوشدلی سے تسلیم کرتے ہیں۔

پولنگلمحہ بہ لمحہ روداد
بلوچستان میں انتہائی کم ٹرن آوٹ
وفاق کے لیے خطراتوفاق کے لیے خطرات
بینظیر بھٹو کے قتل سے سیاسی سمت بدل گئی ہے
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
چودھریوں کی مشکل
پی پی پی کے امیدواروں کے لیے ہمدردی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد