BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ

پی پی پی کے کارکن ایم کیو ایم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے
بیس فروری کو پی پی پی کے کارکنوں نے ایم کیو ایم کے خلاف مبینہ دھاندلی پر احتجاج بھی کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار سینئیر جج کی نگرانی میں ایک کمیشن تشکیل دے جو صوبہ سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے خلاف انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کرے اور ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ جمع کروائے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن مانیٹرنگ سیل کے کوارڈینیٹر سینیٹر لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کی پچیس اور صوبائی اسمبلی کی تیس نشستیں ایسی ہیں، جن پر انتخابی دھاندلی کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں اور پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن ان مذکورہ حلقوں کے سرکاری نتائج تحقیقاتی رپورٹ کے سامنے آنے تک روک دے۔

کراچی کے حلقہ این اے دو سو انچاس سے پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالحبیب میمن اور شکار پور حلقہ دو سو دو سے آفتاب شعبان میرانی بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ دونوں امیدوار غیر سرکاری نتائج کے مطابق اپنے اپنے حلقوں سے انتخابات ہار چکے ہیں۔

عبدالحبیب میمن نے الزام لگایا ہے کہ ان کے حریف متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار کو جتوانے کے لیے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے پولنگ کے عملے اور پولیس پر دباؤ ڈالا اور ڈاکٹر فاروق ستار نے ستر ہزار سے زائد بوگس ووٹ ڈال کر کامیابی حاصل کی۔ عبدالحبیب میمن نے تین ایسی بیلٹ بُکس بھی صحافیوں کو دکھائیں جن پر متحدہ قومی موومنٹ کے نشان پتنگ پر مہریں لگی ہوئی تھیں اور ان کے بقول یہ بیلٹ پیپرز ڈاکٹر فاروق ستار کی بوگس جیت کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ہاتھ لگے۔

بوگس ووٹ کی کاپیاں
 عبدالحبیب میمن نے تین ایسی بیلٹ بُکس بھی صحافیوں کو دکھائیں جن پر متحدہ قومی موومنٹ کے نشان پتنگ پر مہریں لگی ہوئی تھیں اور ان کے بقول یہ بیلٹ پیپرز ڈاکٹر فاروق ستار کی بوگس جیت کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ہاتھ لگیں۔

اسی طرح سندھ اسمبلی کے حلقہ ایک سو انیس سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے ایک بیلٹ بُک چھینی جو کہ جمعرات کو اسلام آباد کی پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔

شکار پور کے حلقہ این اے دو سو دو سے آفتاب شعبان میرانی نے اس پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ان کے مدمقابل نیشنل پیپلز پارٹی نے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کو جتوانے کے لیے انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کے بقول الیکشن سے ایک رات پہلے سولہ پریزائیڈنگ افسران کو بدل دیا گیا اور پولنگ کے دن ایک پولنگ سٹیشن سے چھ بیلٹ بُکس بھی غائب ہو گئیں۔ آفتاب شعبان الیکشن کمیشن سے سے بائیس ایسے پولنگ سٹیشنز کی شکایت کی ہے جن میں سے کئی پولنگ سٹیشنز سے انہیں یا تو چند ایک اور یا پھر کوئی بھی ووٹ نہیں ملا جبکہ ان کے مدمقابل نے تمام کے تمام ووٹ حاصل کیئے۔

پیپلز پارٹی نے ڈیرہ غازی خان کے حلقوں ایک سو اکہتر اور ایک سو بہتر سے سابق صدر فاروق خان لغاری پر بھی دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور دس پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن سیل کے کوارڈینیٹر سینیٹر لطیف خان کھوسہ نے یہ واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی مذکورہ الزامات کی بناء پر ملک گیر انتخابی عمل پر شکوک کا اظہار نہیں کر رہی تاہم پارٹی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ جن حلقوں میں پیپلز پارٹی کر چن کر بے ضابطگیوں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، وہاں کے نتائج روک کر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو انصاف دلوایا جائے۔

نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
پولنگخواتین ووٹرز
ملک بھر میں خواتین کا مجموعی ٹرن آؤٹ کم رہا۔
’ایک پرچی کی مار‘’ایک پرچی کی مار‘
عوام کو جاہل، ان پڑھ سمجھنے کی سزا؟
نواز شریفنواز شریف:
اب مشرف اپنی آنکھیں کھولیں
چوہدری پرویز الہیاٹک کا انتخابی سفر
رشتوں کی سیاست اور کامیابی
پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
جمہوریت کی جیت
نتائج کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد