سندھ: پہلی بار اے این پی کی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی نے حالیہ انتخابات میں صوبہ سندھ میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل کی ہیں۔ دونوں نشستیں کراچی کے پختون اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہیں جو پچھلے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جیتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں انہی حلقوں سے اے این پی کے امیدواروں کو برائے نام ووٹ ملے تھے۔ لیکن اُس وقت ایم ایم اے کے امیدواروں نے جتنے ووٹ حاصل کیے تھے اس بار اے این پی کے فاتح امیدواروں کو اس سے سو فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ غیرحتمی نتائج کے مطابق اے این پی کے امیدوار امیر نواب کراچی کے حلقہ پی ایس ترانوے سے ساڑھے چھتیس ہزار ووٹ لیکر اور امان اللہ خان پی ایس ایک سو اٹھائیس سے ساڑھے انتیس ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے ہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار شمیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اے این پی کی یہ کامیابی سندھ خصوصاً کراچی کی انتخابی سیاست میں مثبت تبدیلی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان حلقوں میں اے این پی کے امیدواروں کی حمایت کی تھی۔ ’ کراچی میں پختونوں کی آبادی پشاور شہر سے زیادہ ہے لیکن ان کی کسی ترقی پسند سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی نہیں ہو پاتی تھی۔ بلکہ ان کا ووٹ مذہبی جماعتوں کو جاتا تھا۔ اسمبلی میں ان کی نمائندگی سے ان کا کردار بڑھے گا اور وہ اب اس نظام کے استحکام میں بھی دلچسپی لیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے بعد اے این پی کی سندھ میں بھی حیثیت بن گئی ہے اور اس کے حوالے سے بھی وفاقی جماعت ہونے کا تاثر پیدا ہوگا۔اے این پی سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بشیر جان کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبائی اسمبلی میں دو نشستیں جیتنا اتنی بڑی کامیابی تو نہیں لیکن ان کی جماعت اسمبلی میں نمائندگی کا پورا فائدہ اٹھائے گی۔
ان کے مطابق ’پختون زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن ان کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔ حکومت سندھ ہماری پرانی گاڑیوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کو بند کر رہی ہے اور ہمارے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں داخلے نہیں دیے جا رہے۔ ان دو سیٹوں کے ذریعے ہم اسمبلی میں پہنچ کر کم سے کم ان زیادتیوں کو بیان تو کرسکیں گے‘۔ تاہم اے این پی کے لیے صحافی شمیم الرحمٰن کا کچھ اور مشورہ ہے۔ ’اے این پی اگر ایک سیاسی جماعت کے طور پر کام کرے گی تو ان کا سندھ کے سیاسی دھارے میں ایک کردار بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ سیٹیں لینے کے بعد لسانیت پر زور دے گی اور لسانی حدود میں کام کرے گی تو اس کا اثر بالکل الٹ ہوسکتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں مشرف مخالف جماعتوں کی جیت19 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں اے این پی کی اکثریت19 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||