BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 21 February, 2008 - Published 14:19 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: پہلی بار اے این پی کی کامیابی

اے این پی
دونوں نشستیں کراچی کے پختون اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی نے حالیہ انتخابات میں صوبہ سندھ میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل کی ہیں۔

دونوں نشستیں کراچی کے پختون اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہیں جو پچھلے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جیتی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں انہی حلقوں سے اے این پی کے امیدواروں کو برائے نام ووٹ ملے تھے۔ لیکن اُس وقت ایم ایم اے کے امیدواروں نے جتنے ووٹ حاصل کیے تھے اس بار اے این پی کے فاتح امیدواروں کو اس سے سو فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ غیرحتمی نتائج کے مطابق اے این پی کے امیدوار امیر نواب کراچی کے حلقہ پی ایس ترانوے سے ساڑھے چھتیس ہزار ووٹ لیکر اور امان اللہ خان پی ایس ایک سو اٹھائیس سے ساڑھے انتیس ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار شمیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اے این پی کی یہ کامیابی سندھ خصوصاً کراچی کی انتخابی سیاست میں مثبت تبدیلی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان حلقوں میں اے این پی کے امیدواروں کی حمایت کی تھی۔

’ کراچی میں پختونوں کی آبادی پشاور شہر سے زیادہ ہے لیکن ان کی کسی ترقی پسند سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی نہیں ہو پاتی تھی۔ بلکہ ان کا ووٹ مذہبی جماعتوں کو جاتا تھا۔ اسمبلی میں ان کی نمائندگی سے ان کا کردار بڑھے گا اور وہ اب اس نظام کے استحکام میں بھی دلچسپی لیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے بعد اے این پی کی سندھ میں بھی حیثیت بن گئی ہے اور اس کے حوالے سے بھی وفاقی جماعت ہونے کا تاثر پیدا ہوگا۔اے این پی سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بشیر جان کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبائی اسمبلی میں دو نشستیں جیتنا اتنی بڑی کامیابی تو نہیں لیکن ان کی جماعت اسمبلی میں نمائندگی کا پورا فائدہ اٹھائے گی۔

آواز اٹھائیں گے
 ’پختون زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن ان کا معاشی قتل عام ہورہا ہے۔ حکومت سندھ ہماری پرانی گاڑیوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کو بند کررہی ہے اور ہمارے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں داخلے نہیں دئے جارہے۔ ان دو سیٹوں کے ذریعے ہم اسمبلی میں پہنچ کر کم سے کم ان زیادتیوں کو بیان تو کرسکیں گے۔
اے این پی سیکریٹری جنرل بشیر جان

ان کے مطابق ’پختون زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن ان کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔ حکومت سندھ ہماری پرانی گاڑیوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کو بند کر رہی ہے اور ہمارے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں داخلے نہیں دیے جا رہے۔ ان دو سیٹوں کے ذریعے ہم اسمبلی میں پہنچ کر کم سے کم ان زیادتیوں کو بیان تو کرسکیں گے‘۔

تاہم اے این پی کے لیے صحافی شمیم الرحمٰن کا کچھ اور مشورہ ہے۔ ’اے این پی اگر ایک سیاسی جماعت کے طور پر کام کرے گی تو ان کا سندھ کے سیاسی دھارے میں ایک کردار بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ سیٹیں لینے کے بعد لسانیت پر زور دے گی اور لسانی حدود میں کام کرے گی تو اس کا اثر بالکل الٹ ہوسکتا ہے‘۔

بینظیر بھٹو’بینظیر قتل کے بعد‘
قوم پرستوں اور پیپلزپارٹی میں قربت کب تک؟
ایم کیو ایممتحدہ کیوں اہم
پی پی پی کیوں متحدہ کو نظر انداز نہیں کرسکتی
الیکشن 2008
جنوبی پنجاب میں حسب نسب آج بھی اہم کیوں؟
اسفند یار ولیسرخ عوامی جماعت
اے این پی: سرحد کی پشتون قوم پرست پارٹی
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
اسی بارے میں
مشرف مخالف جماعتوں کی جیت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں اے این پی کی اکثریت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد