BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 14 February, 2008 - Published 16:29 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے این پی: سرحد کی پشتون قوم پرست پارٹی

اسفند یار ولی
اے این پی کے رہنما اسفند یار ولی نے امریکہ کے دورے سے واپسی کے بعد کہا تھا کہوہ پشتونوں کا مقدمہ لڑنے کے لیےامریکہ گئے تھے
سن انیس سو چھیاسی میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کی میزبانی اور خان عبدالولی خان کی سربراہی میں معرض وجود میں آنے والی عوامی نیشنل پارٹی اپنا اکیس سالہ سیاسی سفر طے کرنے کے بعد اب ایک قومی جماعت کی پہچان سے محروم ہو کر صوبہ سرحد کی ایک پشتون قوم پرست پارٹی کے سانچے میں ڈھل چکی ہے۔

کالعدم نیشنل عوامی پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاسی اور نظریاتی بطن سے جنم لینے والی عوامی نیشنل پارٹی کے قیام میں سندھی، بلوچ، پشتون اور ایک حد تک پنجاب سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے سیاستدانوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ان میں صوبہ سرحد سے خان عبدالولی خان، افضل خان لالا، عبدالطیف آفریدی، بلوچستان کے عبدالرحمن کرد، سندھ کے رسول بخش پلیجو، پروفیسر جمال نقوی، امداد چانڈیو، اعزاز نذیر اور پنجاب کے احسان وائیں اور امتیاز عالم شامل تھے۔

اے این پی ایک ایسے وقت وجود میں آئی جب سابقہ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان جاری رہنے والی سرد جنگ اسی کی دہائی کے دوران افغانستان میں بظاہر ایک گرم جنگ میں تبدیل ہوچکی تھی جبکہ دوسری طرف پاکستان میں جنرل ضیاء کا مارشل لاء نافذ تھا اور وہ افغان جہاد کے علاوہ خود ملک کے اندر’اسلامائزیشن ‘ کو فروغ دینے کے ایجنڈے پر کاربند تھے۔

اس بین الاقوامی اور ملکی صورتحال کے تناظر میں قائم ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی کا مقصد پاکستان میں مارشل لاء کا خاتمہ، جمہوریت کی بحالی، چھوٹے صوبوں کے احساس محرمی کو ختم کرنے کے لیے مکمل صوبائی خودمختاری کا حصول اور ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات کا قیام بالخصوص افغان پالیسی میں تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔

تاہم جب اسی کی دہائی کے آخر میں افغانستان سے روسی فوجوں کی انخلاء اور سوویت یونین کی شکست و ریخت کے آثار نمودار ہونے لگے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی جمہوریت کی بحالی کے لیے اقدامات کیے گئے تو اس دوران عوامی نیشنل پارٹی میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوگیا۔ پارٹی میں شامل کیمونسٹوں نے نو اپریل انیس سو نواسی کو صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے اے این پی کے اندر رہتے ہوئے خفیہ طور پر افراسیاب خٹک کی سربراہی میں قومی انقلابی پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت بنا ڈالی۔ اسی سال کے آخر میں اسے ایک جداگانہ پارٹی کے طور پر سامنے لایا گیا۔

قومی انقلابی پارٹی کے قیام کے ساتھ ہی عوامی نیشنل پارٹی پاکستان کے سیاسی نقشے پر ایک خالص پشتون قوم پرست جماعت کے طور پر ابھر کے سامنے آئی ۔ صوبہ سرحد اور ایک حد تک بلوچستان کے پشتون علاقوں کو اسکا گڑھ سمجھا جانے لگا۔ پنجاب کی’ بالا دستی، کا خاتمہ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت اور صوبائی خود مختاری کا حصول اور افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ ’مداخلت‘ اے این پی کے سیاسی جدوجہد کا محور بن گیا۔

برصغیر کی تحریک آزادی کے رہنماء خان عبدالغفار خان کے سیاسی نظریات کے زیر اثر عوامی نیشنل پارٹی ایک با اصول، جمہوریت پسند، نظریاتی اور اسٹیبلشمنٹ سے مصلحت نہ کرنے والی جماعت کے طور پر جانی جاتی تھی لیکن افغانستان سے روسی فوجیوں کے انخلاء اور سرد جنگ میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی متوقع کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے اے این پی نے پہلی مرتبہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے مسلم لیگ(ن) سے اتحاد کر لیا اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد یعنی آئی جے آئی کا حصہ بن گئی۔

پاکستان بالخصوص پشتون قومی تحریک میں اسکو ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا گیا جسکا خمیازہ عوامی نیشنل پارٹی کو دوحصوں میں تقسیم ہونے کی صورت میں بگھتنا پڑا۔ ممتاز قوم پرست رہنما افضل خان لالا نے یہ کہہ کر انیس سو نواسی میں پشتونخوا قومی پارٹی کے نام سے ایک الگ جماعت بنائی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے پنجاب کے ساتھ ہاتھ ملا کر پشتونوں کے مفادات اور طویل جدوجہد کا ’سودا‘ کر لیا ہے۔ ابتداء میں اس نئی جماعت کو پشتونوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ شکست و ریخت کا شکار ہو کر خود بخود ختم ہوگئی۔

مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کے درمیان نو سال تک جاری رہنے والا اتحاد صوبہ سرحد اسمبلی کی جانب سے صوبے کے نام کو تبدیل کر کے ’پشتونخوا‘ رکھنے کے حوالے سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرار داد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے پاس کرانے پر مسلم لیگ (ن) کے انکار کے بعد ٹوٹ گیا۔

انیس سو نواسی میں مسلم لیگ ( ن) سے اتحاد کے بعد اگرچہ عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کی مبینہ بالا دستی، صوبائی خود مختاری کے حصول اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت منشور اور نعروں کے حد تک کرتی رہی تاہم عملی طور پر اسے اب پاکستان کy دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ایک انتخابی پارٹی سمجھا جانے لگا۔البتہ اے این پی نے عملی طور پرکالا باغ ڈیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر بھر پور عوامی تحریک چلائی۔

لوگ ولی خان کے آخری دیدار کے لیے جناح پارک میں جمع ہیں

انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے تک پاکستان میں چار مرتبہ ہونے والے انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ صوبہ سرحد اور مرکزی حکومت میں اقتدار میں رہنے کے باوجود بھی اے این پی کو اپنے سیاسی پروگرام میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی’طالبانائزیشن‘ نے ایک معتدل، روشن خیال اور ترقی پسند پارٹی کے ناطے امریکہ کی نظروں میں اے ین پی کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔اس سلسلے میں اے این پی کے قائدین گزشتہ کچھ عرصے سے وقتاً فوقتاً امریکہ کا دورہ بھی کرتے رہے ہیں۔

پچھلے سال اے این پی کے رہنما اسفند یار ولی خان نے امریکہ کے دورے سے واپسی کے بعد کہا تھا کہ’وہ پشتونوں کا مقدمہ لڑنے کے لیےامریکہ گئے تھے۔‘

مبصرین کا خیال ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اٹھارہ فروری کو ہونے والے مجوزہ عام انتخابات میں اے این پی کو اچھی پوزیشن حاصل ہوسکے گی اور شاید یہی وجہ ہے کہ اے این پی نے اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے برعکس انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کواب بھی متوسط طبقے کی جماعت سمجھا جا رہا ہے باوجود اسکےکہ انتخابات میں دیرینہ نظریاتی ساتھیوں کی بجائے پرانے یا پھر نئے شامل ہونے والے سرمایہ دار افراد کو ٹکٹ جاری کرنے کے رجحان میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا ہے۔

اے این پی اب بھی ایک عوامی جماعت ہے جس میں نہ صرف پریشر پالٹیکس کرنے کی صلاحیت ہے بلکہ اسکے پاس سٹریٹ پاور بھی موجود ہے اور وہ پاکستان کی ان چند جماعتوں میں شامل ہے جس میں محلے کی سطح پر قائم ایک یونٹ سے لیکر مرکزی صدر تک کا انتخاب جمہوری طریقے سے ہوتا ہے جبکہ پارٹی کے اندر اختلاف رائے کا اظہار اور اس کو برداشت کرنے کا کلچر بھی موجود ہے۔

اسفندیار ولیروشن خیال، پرامن
عوامی نیشنل پارٹی کا منشور
اسفند یار ولینیا پشتون اتحاد
ووٹ بینک بڑھانے کی حکمت عملی یا لبرل آواز
کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
ووٹرباجوڑ کا نتیجہ
ایم ایم اے کے لیئے لمحہ فکریہ؟
’ سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘
کراچی:حکومت، اپوزیشن کی سیاسی مفاہمت
ولی خان ایسے لوگ کم تھے
ولی خان کی سیاسی زندگی پر ایک نظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد