انتخابی حکمی عملی یا لبرل پشتون آواز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پشتون قوم پرستوں کی دو بڑی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی نے تقریباً سینتیس سال کی مخالفت ترک کرتے ہوئے گزشتہ روز پشتون نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیدیا ہے۔ یہ اتحاد ایک ایسے وقت بنایا گیا ہے جب دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد جنگ کے دوران صوبہ بلوچستان اور سرحد میں یہ دونوں جماعتیں اپنے ووٹ بینک کم ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں اور جبکہ پشتونوں کی لبرل آواز امریکہ مخالف مذہبی سیاسی پارٹیوں اور مبینہ جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں میں بظاہر دب گئی ہے۔ انیس سو ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں کالعدم قرار دی جانے والی نیشنل عوامی پارٹی کے بطن سے جنم لینے والی دونوں قوم پرست پارٹیوں کے اتحاد کرنے کا بظاہر مقصد آنے والے انتخابات میں ایک مضبوط قوت کے طور پر سامنے آنا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں پارٹیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کو یہ پیغام بھی دینا چاہتی ہیں کہ لبرل، روشن خیال اور ترقی پسند سیاسی پارٹیوں کے طور پر وہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے پشتونوں کی سرزمین سےمبینہ شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔
افغان جہاد کے دوران دونوں قوم پرست جماعتیں کابل میں ماسکو نواز حکومت کی حمایتی جبکہ امریکہ کو ایک سامراجی قوت قرار دیتے ہوئے افغان جہاد کی مخالفت میں پیش پیش تھیں، مگر سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد جب امریکہ اور مبینہ اسلامی شدت پسند ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہوئے تو افغانستان میں لڑی جانے والی لڑائی میں پشتون قوم پرست جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کردی۔ پہلی بار عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائدین اسفندیار ولی خان اور محمود خان اچکزئی نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے واشنگٹن اور دیگر مغربی ممالک کے دورے شروع کردیے ہیں۔ وہاں وہ اعلی امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر انکی مدد کی جائے تو وہ ملاّ مخالف اور روشن خیال سیاسی قوت ہونے کے ناطے افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں بڑھتی ہوئی مبینہ شدت پسندی کو روک سکتے ہیں۔ واشنگٹن کے دورے سے واپسی پر اسفندیار ولی خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا: ’میں پشتونوں کا مقدمہ لڑنے واشنگٹن گیا ہوا تھا۔‘
ان دونوں جماعتوں کی عالمی اہمیت حاصل کرنے کی کاوشوں سے قطع نظر حالیہ سیاسی اتحاد کی بدولت وہ عام انتخابات کے دوران محض بلوچستان کے پشتون علاقوں سے ایک مؤثر پارلیمانی قوت کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔ دو ہزار دو کے انتخابات میں بلوچستان میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے انیس سو ستانوے کی انتخابات کے مقابلے میں قدرے اچھی کارکردگی دکھائی تھی جس میں اس نے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستیں حاصل کی تھیں۔انیس ستانوے میں اس نے صوبائی اسمبلی کی دو جبکہ قومی کی کوئی بھی نشست نہیں جیتی تھی۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کو بلوچستان میں ہونے والےگزشتہ پانچ انتخابات کے دوران صرف دو بار صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ملی تھی۔ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کو انیس سو ستانوے کے انتخابات کے مقابلے میں دو ہزار دو میں بڑا دھچکا لگاتھا جبکہ انیس ستانوے میں اس نے سرحد اسمبلی کی تینتیس جبکہ قومی اسمبلی کی دس نشستیں حاصل کی تھیں۔ دو ہزار دو کے الیکشن کے دوران اس کی نشتیں کم ہوگئیں اور اسےصوبائی اسمبلی کی دس اور قومی اسمبلی کی ایک نشست ملی تھی۔ بلوچستان میں ہرانتخابات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے امیدوارایک دوسرے کا ووٹ کاٹتے رہتے ہیں جس کا فائدہ بیشتر اوقات جمیعت علماء اسلام (فضل الرحمن ) کو پہنچتا ہے۔ بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں قائم پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کا ووٹ بینک اگر چہ عوامی نیشنل پارٹی کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین بیشتر اوقات یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ’ اگرچہ ہم خود جیت نہیں سکتے مگر دوسروں کو ہرانے کی صلاحیت ضرور رکھتے ہیں۔‘ دونوں جماعتوں کے اتحاد سے اب آنے والے انتخابات میں پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے جیتنے کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں کیونکہ ہر انتخابات کے دوران قلعہ عبداللہ اور چمن میں کانٹے دار مقابلہ ان دوقوم پرست جماعتوں کے درمیان ہوتا ہے اور ہر بار پولنگ کے دوران جھڑپیں ہوتی ہیں۔ دو ہزار دو کے انتخابات میں محمود خان اچکزئی بمشکل ہی اپنی نشست جیت پائے تھے جبکہ قلعہ عبداللہ کے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے انکی جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے رکن محمد نسیم توریالی کی جیت کو عوامی نیشنل پارٹی نے عدالت میں چیلنج کردیا تھا۔ عدالت نے اس نشست پر ضمنی انتخابات کرانے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ضمنی الیکشن کے دوران دونوں پارٹیوں کے درمیان ہونے والےشدید جھڑپوں میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں اور تاحال قلعہ عبداللہ کے صوبائی اسمبلی کا یہ نشست خالی ہے۔ اس اتحاد کا صوبہ سرحد کے انتخابات پر کچھ زیادہ اثر شاید اس لیے بھی نہ پڑے کیونکہ اس صوبے میں پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے لہذا اس اتحاد کا انتخابی فائدہ بلوچستان تک محدود رہے گا۔ دوسری طرف یہ اتحاد بڑی تعداد میں موجود ان سخت گیر مؤقف کے حامل نظریاتی کارکنوں کے لیے ایک ایسا سیاسی سراب ثابت ہوسکتاہے جو اب بھی پشتونستان بننے کے خواب میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ آئین و منشور کے بننے کے بعد مستقبل میں اس اتحاد کوانضمام میں بدلا جاسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||