عوامی پسند:’خیبر‘ یا ’پشتونستان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کا نام بدلنے کے حوالے سے صوبائی حکومت نے سرکاری ویب سائٹ پر عام لوگوں سے جو تجاویز مانگی ہیں اس میں حصہ لینے والوں میں سے زیادہ تر نے صوبہ کا نیا نام ’پشتونستان‘ یا ’خیبر‘ تجویز کیا ہے۔ تجاویز کا یہ سلسلہ چار فروری سے شروع ہوا ہے اور اب تک صوبہ سرحد کے درجنوں افراد نے ویب سائٹ پر تحریری تجاویز پیش کی ہیں۔ تجاویزدینے والوں میں ان لوگوں کی تعداد تقریباً ایک جیسی ہے جن کا خیال ہے کہ صوبہ سرحد کا نیا نام پشتونستان یا خیبر رکھاجائے جبکہ دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جن کا کہنا ہے کہ موجودہ نام ہی بہتر ہے۔ حصہ لینے والوں نے اپنے تجویز کردہ ناموں کے ساتھ وجوہات بھی پیش کی ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی میں ایم فل کے طالبعلم فردوس خان یوسف زئی نے صوبہ سرحد کا نیا نام پشتونستان تجویز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پشتونستان ایک مناسب نام ہوگا کیونکہ اس کی وجہ سے صوبہ سرحد کم از کم نام کے معاملہ کی حد تک پاکستان کے باقی تین صوبوں کے برابر آجائے گا‘۔ صوبہ کا نام ’خیبر‘ تجویز کرنے والوں میں شامل مشتاق علی کا کہنا ہے’صوبہ سرحد میں ہندکو اور سرائیکی بولنے والے بھی آباد ہیں جو صوبہ میں برابری کے حقدار ہیں لہذا خیبر ایک غیر متنازعہ نام ہے جو سب کو قبول ہوگا‘۔ سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ نام ’پشتون خواہ‘ کے نام کو کم لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ جن افراد نے اس بحث میں الجھنے سے اجتناب کیا ہے ان میں سے عمران جدون کا کہنا ہے کہ’صوبہ سرحد کا نام بدلنے کی بجائے صوبہ سے کرپشن، لاقانونیت، بےروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے اور تعلیم اور صحت کا معیار بہتر بنایا جائے‘۔ تجویز کنندگان میں سے ایک شخص جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا تجویز دی ہے کہ’سب سے پہلے امریکہ کے بارے میں سوچا جانا چاہیئے جو جنرل مشرف کے پاکستان پر نہیں بلکہ صوبہ سرحد پر حملہ کرتا ہے لہذا پہلے صوبہ کا دفاع ہونا چاہیئے جبکہ بعد میں سیاست بازی ہو‘۔
ایک دوسرے شخص نے کہا ہے کہ چونکہ پشتون ایک غیور قوم ہے لہذا صوبہ کا نیا نام ’غیورستان‘ ہونا چاہیئے۔ جن دیگر ناموں کی تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں اباسین، افغانیہ، اسلامستان، اسلام پور اور دارلاسلام شامل ہیں۔ واضح رہے کہ مذہبی جماحتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ بہت جلد صوبہ کے نام کی تبدیلی کے سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں وزیر قانون ملک ظفر اعظم کی سربراہی میں صوبہ کا نام تبدیل کرنے کی غرض سے صوبائی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل ایک نو رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں حزب اختلاف کے ارکین بھی شامل تھے لیکن سات ماہ گزرنے کے باوجود کمیٹی ابھی تک کوئی متفقہ نام پیش نہیں کر سکی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت صوبہ کے نام کی تبدیلی کے ایشو کو اس سال ہونے والے متوقع عام انتخابات کے لیے مہم کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں سرحدکا نیا نام: کمیٹی کی تشکیل18 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||