سرحدکا نیا نام: کمیٹی کی تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے صوبہ کا نام تبدیل کرنے کی غرض سے صوبائی اسمبلی کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کمیٹی کو ایک ماہ میں نیا نام تجویز کرنے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق صوبائی وزیر قانون اور پارلیمانی امور ملک ظفر اعظم اس نو رکنی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ دیگر اراکین میں سرحد اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہزادہ گستاسپ خان، عوامی نیشنل پارٹی کے بشیر احمد بلور، پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے مرید کاظم، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے قربان علی، مسلم لیگ (ق) کے مشتاق غنی، ایم ایم اے کے صوبائی وزیر شاہ راز خان، میاں نادر شاہ اور نعیمہ کشور شامل ہیں۔ اس حساس موضوع پر کمیٹی تشکیل دینے کا وعدہ سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے اسمبلی اجلاس کے دوران کالا باغ ڈیم پر بحث کے دوران کیا تھا۔ اس کا مطالبہ رکن اسمبلی قربان علی نے ان سے کیا تھا۔ سرکاری اعلان کے مطابق حکومت کے زیر غور ناموں میں اباسین، افغانیہ، پختونخواہ، پختونستان اور خیبر شامل ہیں جبکہ کئی حلقے موجودہ نام سرحد بھی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ سینئر صوبائی وزیر نے کمیٹی کو تمام مکاتب فکر اور رائے عامہ کے رہنماؤں سے اس سلسلے میں مشورہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کسی ایک نام پر اتفاق رائے کی صورت میں اسے بل کی شکل میں اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کا مسلہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ سرحد اسمبلی پہلے بھی عوامی نیشنل پارٹی کے دورے حکومت میں پختونخواہ کے نام کی قرار داد منظور کروا چکی ہے۔ لیکن یہ چونکہ آئینی معاملہ ہے اور اس کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے لہذا اس وقت کی وفاقی حکومت نے اس مسلے کو نظر انداز کردیا تھا۔ یہ واضح نہیں کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے اسے اب اتنی سنجیدگی سے کیوں لیا ہے اور اسے اب اٹھانے کا اصل مقصد کیاہے۔ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان پہلے ہی متنازعہ حسبہ بل پر عدالتی جنگ شروع ہوچکی ہے اور تعلقات انتہائی کشیدہ نظر آتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||