BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مؤخر

پاکستان الیکشن کمیشن
بعض نتائج عدالتوں کی جانب سے روکے جانے کی وجہ سے مخصوص نشستوں کی تقسیم چند روز کے لیے روک دی گئی ہے۔
پاکستان الیکشن کمیشن نے مختلف عدالتوں کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اکیس حلقوں کے نتائج روکنے کے بعد خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مؤخر کردی ہے جس سے حکومت سازی میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض نتائج عدالتوں کی جانب سے روکے جانے کی وجہ سے مخصوص نشستوں کی تقسیم چند روز کے لیے روک دی گئی ہے۔

مخصوص نشستوں کی تقسیم روکنے کی وجہ سے حکومت سازی میں بھی کچھ روز کی تاخیر ہو سکتی ہے۔

قانون کے مطابق حتمی نتائج کے بعد آزاد امیدواروں کو تین روز کی مہلت دی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنی پسند کی جماعت میں اگر شامل ہونا چاہیں تو شامل ہوجائیں۔

یہ مہلت چار مارچ کو ختم ہوگئی اور اس اعتبار سے الیکشن کمیشن کو پانچ مارچ تک مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کردینی چاہیے تھی لیکن اب اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔

 ایک سے زیادہ نشستیں جیتنے والے اراکین اسمبلی قانون کے مطابق انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے تیس دن کے اندر ایک نشست اپنے پاس رکھیں اور دیگر سے مستعفی ہوجائیں۔
کنور دلشاد

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی ساٹھ اور اقلیتوں کی دس مخصوص نشستیں ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی چھیاسٹھ اور اقلیتوں کی آٹھ نشستیں ہیں جبکہ سندھ اسمبلی میں خواتین کی انتیس اور اقلیتوں کی نو نشستیں۔ اسی طرح سرحد اسمبلی میں خواتین کی گیارہ اور اقلیتوں کی تین اور بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی بائیس اور اقلیتوں تین نشستیں ہیں۔

دریں اثناء الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک سے زیادہ نشستیں جیتنے والے اراکین اسمبلی قانون کے مطابق انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے تیس دن کے اندر ایک نشست اپنے پاس رکھیں اور دیگر سے مستعفی ہوجائیں۔

حتمی نتائج کے مطابق پندرہ کے قریب ایسے امیدوار ہیں جو ایک سے زیادہ حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں مسلم لیگ نواز کے جاوید ہاشمی تین حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ چودہ دیگر امیدوار دو دو حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں۔

ایک اور بیان میں کنور دلشاد نے ہارنے والے امیدواروں کو یاد دلایا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو کسی کے خلاف اعتراض ہے تو انتخابات کے حتمی نتیجے کے پینتالیس روز کے اندر اپنی انتخابی پٹیشن سیکریٹری الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں۔

اسی بارے میں
اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
26 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد