BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 21 February, 2008 - Published 10:35 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آزاد ارکان سیاسی وابستگی ظاہرکریں‘

الیکشن کمیشن
قبائلی علاقوں پر الیکشن کمیشن کی یہ شرط لاگو نہیں ہوتی
الیکشن کمیشن نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ ان انتخابات کے سرکاری نتائج کے تین دن کے اندر اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں تاکہ انتخابی عمل احسن طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اس اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان چودہ روز کے اندر اندر کردیا جاتا ہے اس طرح حالیہ انتحابات کے نتائج کا اعلان یکم مارچ تک کر دیا جائے گا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کے نتائج کے اعلان کے تین روز کے اندر اندر ان انتخابات میں کامیاب ہونے والےآزاد امیدواروں کو کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی اور اس کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دینا ہوگی۔

واضح رہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں پر الیکشن کمیشن کی یہ شرط لاگو نہیں ہوتی کیونکہ وہاں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا اور سیاسی پارٹیوں سے منسلک رہنماؤں کو بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ افراد دو سیٹوں میں آزاد حثیت سے کامیاب ہوئے ہیں اور منتخب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس کے بعد یہ بات سامنے آئے گی کہ وہ کس حلقے سے دستبردار ہو رہے ہیں اس کے بعد وہاں پر ضمنی انتخابات کا اعلان کیا جائے گا۔

ان انتخابات میں قبائلی علاقوں کو چھوڑ کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں قومی اسمبلی کے اٹھارہ حلقوں سے آزاد امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں صوبہ سرحد کا ایک، پنجاب کے بارہ ، سندھ کا ایک اور بلوچستان کے تین حلقے شامل ہیں۔

میاں منظور وٹو بھی دو نشستوں سے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں

پنجاب سے منتخب ہونے والے بارہ آزاد ارکان میں سے چند ایک کا تعلق تین بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم سے ہے، لیکن انہوں نے یا تو کسی مصلحت کی بنا کر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دی یا کسی تیکنیکی وجہ سے اپنی پارٹی کا ٹکٹ حاصل نہ کر پائے۔

مبصرین کے مطابق اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ پنجاب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں آزاد حثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی دو سو بہتر سیٹوں میں سے دو سو اڑسٹھ سیٹوں پر انتخابات ہو چکے ہیں اور ان تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز دوسرے نمبر پر ہے۔

ادھر انتخابی کمیشن نے منتخب ہونے والے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ انتخابی اخراجات کی تفصیلات اٹھائیس فروری تک جمع کرا دیں۔ قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے اخراجات کی حد پندرہ لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے یہ حد دس لاکھ روپے مقرر ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جو منتخب امیدوار کے قانونی تقاضہ پورا نہیں کریں گے ان کے نام سرکاری نتائج میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 172 میں پولنگ سٹیشن نمبر دو سو پینتیس میں دوبارہ پولنگ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ پولنگ سٹیشن گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کھار میں قائم ہے اور یہاں دوبارہ پولنگ 23 فروری بروز ہفتہ کو ہوگی۔

بدھ کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے ملنے والی رپورٹ کے پیش نظر کیا گیا ہے اور یہاں دوبارہ پولنگ کے دوران متعلقہ ریٹرننگ آفیسر موجود رہیں گے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ (ق) کی طرف سے سابق صدر فاروق احمد خان لغاری، پیپلز پارٹی کے شبیر احمد خان لغاری اور مسلم لیگ (ن) کے حافظ عبدالکریم امیدوار ہیں۔

منظور وٹوآزاد کتنے’ آزاد ‘؟
حکومت سازی، آزاد ارکان پر سب کی نظر
اسفندیار ولیسرحد کا سیاسی منظر
’اتحاد کوئی بھی وزارتِ اعلٰی اے این پی کی‘
ایم کیو ایممتحدہ کیوں اہم
پی پی پی کیوں متحدہ کو نظر انداز نہیں کرسکتی
نواز شریفجوڑ توڑ کا آغاز؟
ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت
نواز شریف اور آصف زرداری’بات دو تہائی کی‘
ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت
پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
’ایک پرچی کی مار‘’ایک پرچی کی مار‘
عوام کو جاہل، ان پڑھ سمجھنے کی سزا؟
اسی بارے میں
’کسی سے اتحاد نہیں کریں گے‘
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد