اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تاریخ میں شفاف ترین انتخابات انیس سو ستر کے انتخابات تھےلیکن ان انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اقتدار کی منتقلی عوام کی اس خواہش کے مطابق نہیں کی گئی جس کا اظہار انہوں نے انتخابات والے دن ووٹ ڈال کر کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کافی حد تک شفاف تھے۔عوام کے منتخب نمائندگان کو اقتدار کی منتقلی میں کسی قسم کی دیر سے کئی خدشات پیدا ہوتے ہیں اور پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ خدشات صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ انتخابات کے قوانین و ضوابط کے مطابق انتخابات کے دس روز کے اندر تمام منتخب نمائندوں کو الیکشن کمیشن میں اپنے اخراجات کے گوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں۔ ان گوشواروں کے جمع کرانے کے بعد ہی الیکشن کمیشن حتمی نتائج کا اعلان کرتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف نے سوموار کو کہا تھا کہ ان کی جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے تمام نمائندگان اٹھائیس فروری کو اکٹھے ہوں گے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو یہ اقتدار کی منتقلی اور عوام کی خواہش کے پرخچے اڑانے کی ایک اور مثال ہے۔ قومی اور صوبائی انتخابات دس اکتوبر کو ہوئے۔ان انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے نمائندگان نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف لیا جبکہ سندھ اسمبلی نے بارہ دسمبر کو حلف اٹھایا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ انتخابات کے دس روز بعد الیکشن کمیشن کے حتمی اعلان کے بعد قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کےاجلاس طلب کر لیے جاتے لیکن یہ اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ اسمبلیوں کے اراکین کی جوڑ توڑ چل رہی تھی اور اس جوڑ توڑ کے عمل میں ایسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ سیٹوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر دو ہزار دو کا اینٹی ڈیفیکشن کے قانون کو چند روز کے لیے معطل کیا گیا۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر دو ہزار دو کے تحت ایک پارٹی کی ٹکٹ پر منتحب قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن جیتنے کے بعد اپنی پارٹی تبدیل نہیں کرسکتا۔ یہ قانون یکم جنوری دو ہزار دو میں لاگو ہوا تھا۔ لیکن مختصر مدت کے لیے نومبر میں آئین کی معطلی کے ساتھ یہ قانون بھی معطل ہوا جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ اسی دوران ایسٹیبلشمنٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے سترہ ارکان کو توڑنے میں کامیاب ہوئی اور انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے نام سے جماعت بنا کر مسلم لیگ قاف کی حمایت کا اعلان کر دیا اور اسی فارورڈ بلاک کی وجہ سے مسلم لیگ قاف قومی اسمبلی میں ایک ووٹ کی اکثریت حاصل کرسکی۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس دو ماہ کے زائد عرصے کے بعد طلب کیا۔ ان دو ماہ میں وہی ہوا جو کہ قومی اسمبلی میں ہوا یعنی کہ پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا قیام عمل میں آیا اور پانچ افراد نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر حکومتی جماعت مسلم لیگ قاف کی حمایت کا اعلان کردیا۔
کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دینا قومی اسمبلی میں صدر کا اختیار ہے جب کہ صوبائی اسمبلیوں میں گورنر دعوت دیتا ہے۔ یہ دعوت صدر اور گورنر اس جماعت کو دیتے ہیں جو کہ ان کی اپنی رائے میں حکومت بنا سکتی ہے۔ وہ اس امر کو فوقیت نہیں دیتے کہ کس جماعت کو زیادہ نشستیں ملی ہیں۔ اس صوابدید کا پہلا مظاہرہ انیس سو اٹھاسی کے انتخابات کے بعد صدر نے کیا جب انتخابات کے تین ہفتوں کے بعد بھی صدر غلام اسحاق خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت نہ دی۔اس تاخیر کی وجہ سے بہت سے سمجھوتے ہوئے اور انہی سمجھوتوں میں سے ایک یہ تھا کہ پیپلز پارٹی غلام اسحاق خان کی حمایت کرے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی تکمیل اقتدار کی منتقلی پر ہوتی ہے نہ کہ ووٹ ڈالنے پر۔ان کا کہنا ہے کہ صدر بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ جمہوریت کی طرف کا سفر سموتھ چاہتے ہیں تو پھر دیر کیوں۔ | اسی بارے میں ’دو تہائی اکثریت ہے، اسمبلی کا اجلاس بلائیں‘26 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 ’حلف مشرف کے ہاتھوں اٹھانا ہوگا‘22 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل26 February, 2008 | الیکشن 2008 شریف برادران الیکشن لڑیں گے26 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟25 February, 2008 | الیکشن 2008 تھر پارکر میں دھاندلی کے الزامات25 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||