BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 25 February, 2008 - Published 16:38 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متحدہ اپوزیشن میں بیٹھےگی؟

 ایم کیو ایم
ایم کیو ایم نے صوبائی اسمبلی کی اڑتیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے
پاکستان پپلزپارٹی صوبہ سندھ کی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے پر غور کررہی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں نشستیں حاصل کرنے کے اعتبار سے دوسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ممکنہ طور پر حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔

اٹھارہ فروری کو سندھ اسمبلی کی ایک سو تیس عام نشستوں پر انتخابات ہوئے اور پیپلزپارٹی نے ستر نشستیں حاصل کیں جبکہ ایم کیو ایم نے اڑتیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے دو اور مسلم لیگ قاف نے دس نشستیں حاصل کیں۔

پیپلزپارٹی حکومت بنانے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے بارے میں فیصلہ تقریباً کرچکی ہے لیکن اسے ایم کیو ایم کو مخلوط حکومت میں شامل کرنے کے سلسلے میں شدید اعتراضات ہیں۔

پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر تاج حیدر نے پیر کو بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم تمام جمہوریت پسند قوتوں کو، جنہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ہے، اپنے ساتھ لے کر چلیں گے اور ان کے ساتھ حکومت تشکیل دیں گے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی جماعت ایم کیو ایم کو بھی مخلوط حکومت کا حصہ بنانے پر غور کر رہی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ایم کیو ایم تو آمریت کا ستون رہی ہے اور ہمارا اتحاد جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ بن رہا ہے۔‘

آمریت کا ستون
 ایم کیو ایم تو آمریت کا ستون رہی ہے اور ہمارا اتحاد جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ بن رہا ہے
تاج حیدر

تاج حیدر نے کہا کہ ایم کیو ایم کو چاہیے کہ ’وہ صوبائی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرے اور ہم اس کو یقین دلاتے ہیں کہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی سیاسی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن ساتھ ساتھ ہم بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور قانون شکنی نہیں کریں گے اور اگر وہ ذمہ دار لوگ ہیں تو اس بات کا انہیں خود بھی خیال کرنا ہوگا۔‘

پیپلزپارٹی کی قیادت ایم کیو ایم کو مخلوط حکومت کا حصہ بنانے کی مخالفت کررہی ہے لیکن پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کو ساتھ رکھنے کی تجویز دی ہے۔

اسی طرح ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پیپلزپارٹی سے سیاسی مفاہمت کی مخالفت کی ہے جبکہ ان کے قائد الطاف حسین اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری نے فون پر گفتگو کے دوران ایک دوسرے کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تاہم مبصرین کے مطابق اب تک کے سیاسی حالات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ ایم کیو ایم اس مرتبہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔

اسی بارے میں
سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی
24 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ: پولنگ پرامن رہی
18 February, 2008 | الیکشن 2008
پی پی پی کا بڑھتا جوش
11 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد