’حلف مشرف کے ہاتھوں اٹھانا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویزمشرف بارہا کہہ چکے ہیں کہ ’پاکستان کے مفاد میں ان کا صدر رہنا ضروری ہے‘ اور یہ بات تواتر کے ساتھ اب بھی کہہ رہے ہیں، لیکن خلق خدا کہہ رہی ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوامی مینڈیٹ صدر مشرف کی رائے کے برعکس ہے۔ صدر پرویز مشرف کی صدر رہنے کی خواہش اور اس کے لیے پیش کردہ جواز ان کے پیش رو حکمرانوں سے مختلف نہیں۔ کیونکہ اگر ہم پاکستان بننے سے لے کر اب تک دیکھیں تو شاید ہی کوئی حکمران ایسا ہوگا جس نے کہا ہو کہ ان کا اقتدار میں رہنا ملکی مفاد میں نہیں۔ ایوب خان، یحیٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق، بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی کہتے رہے کہ ملک کے مفاد میں ان کا اقتدار میں رہنا ضروری ہے لیکن جب وہ اقتدار میں رہے یا ہٹائے گئے تب بھی ملک چلتا رہا۔ اب آخر ایسا کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے بنا پاکستان نہیں چل پائے گا؟ بعض مبصرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے فوج کی سربراہی چھوڑنے کے بعد بھی تو فوج چل ہی رہی ہے نا۔ ان کی رائے اپنی جگہ ویسے بھی اگر ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب بھی کسی حکمران نے اس طرح کی بات کہی ہے تو بہت جلد ہی انہیں جانا پڑا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس طرح کی باتیں اکثر حکمران اس وقت کرنا شروع کرتے ہیں جب انہیں ’اب تو جانا ٹھہر گیا ہے صبح گئے کہ شام گئے‘ کا شدت سے احساس ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب بھرے میلے میں کوئی پہلوان ہار جائے تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ عزت کے ساتھ وہاں سے نکلنے کی کرے اور میلے میں بیٹھ کر اپنی ہار کا تماشہ نہ ہی دیکھے تو اچھا ہوتا ہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں عوام نے اور باالخصوص صوبہ سرحد کے عوام نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کے حامی نہیں اور روشن خیالی میں پختہ یقین رکھتے ہیں۔ صدر کے اس بیان کے علاوہ بھی اگر ان کے دیگر حالیہ بیانات پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے جال میں خود ہی پھنستے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے ججوں کی بحالی کے بارے میں کہا ہے کہ ججوں کو بحال کرنے کی قانون میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ صدر کے اِس بیان پر وکلاء رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ پھر تین نومبر سن دو ہزار سات کو ججوں کو برطرف کرنے کا حکم کس قانون کے تحت جاری ہوا؟ صدر صاحب نے یہ بھی خود ہی کہا کہ اگر ان کے حامی الیکشن ہار گئے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ لیکن اب کہتے ہیں ’پاکستان کے مفاد‘ میں ان کا صدر رہنا ضروری ہے۔
ایسے میں تو صدر پرویز مشرف کے پاس صرف دو ہی راستے بچتے ہیں کہ وہ مستعفی ہوجائیں یا پھر انہیں بے اختیار بنانے والی اسمبلی کے وجود میں آنے یا اس کے فوری بعد ہی ختم کردیں۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر صاحب کی اب حالت اس شخص جیسی ہوتی جا رہی ہے جو ایک اونچائی پر کھڑا ہو اور اس کی سیڑھی کھسکتی جا رہی ہو۔ لیکن یہ بھی اپنی جگہ حقیقیت ہے کہ قانون کے مطابق وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو حلف صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں ہی اٹھانا ہوگا۔ جس سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے ججوں کو برطرف کرنے والے صدر مشرف کی قانونی حیثیت کو نئی حکومت کی جانب سے ایک لحاظ سے تقویت بھی ملے گی۔ |
اسی بارے میں امریکہ نے مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||