’مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں‘ مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی واضح کامیابی کے بعد کہا ہے کہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن اگرمعزول ججوں کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنا فیصلہ کریں گے۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کو انٹرویو دیتے ہوئےصدر جنرل (ر) مشرف نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایک مستحکم جمہوری حکومت کے قیام میں مدد دی جائے۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تصادم تب ہوگا جب وزیر اعظم یا صدر نے ایک دوسرے سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی۔ صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ایسے بیانات سنے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دوسرے ججوں کو ان کے عہدوں پر بحال کیا جائے لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کرنا قانونی طور پر ممکن ہے۔
صدر مشرف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سن 2007 میں عدلیہ کے بحران سے حالات کی خرابی کی بنیاد پڑی لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ بلکل صیح اور آئین و قانون کے مطابق تھا صدر مشرف نے کہا کہ وکلاء کے احتجاج میں سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے مسائل شروع ہوئے اور وہ اب سوچتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھا۔ انتخابات میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے صدر مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر جنرل(ر) مشرف نے انٹرویو میں کہا کہ وہ کسی بھی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ ’میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔‘ انہوں نے کہا:’ٹکراؤ صرف اسی صورت میں ہوگا جب وزیر اعظم یا صدر ایک دوسرے کو ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ میں امید کرتاہوں کہ ہم ایسےتصادم سے بچیں گے۔‘
ملکی معاملات میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر جنرل(ر) مشرف نے کہا کہ انہوں نے آئین میں ایسی تبدیلیاں کی ہیں جن سے فوج کا اقتدار میں آنے سے راستہ روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوج کے سربراہان پر مشتمل سکیورٹی کونسل اور آزاد میڈیا ملک میں فوج کی مداخلت روکنےمیں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کے ذریعے وزیر اعظم یا صدر کے غیر مناسب رویے کی وجہ سے حالات کو خراب ہونے سے روکنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی صدر اور وزیر اعظم میں اختلافات ہوئے اس سے فوجی مداخلت کا راستہ ہموار ہوا۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ ملک میں ذرائع ابلاغ کو آزاد کرنے کا اعزاز رکھتےہیں۔انہوں نے 2001 میں ملک میں صرف ایک ٹیلی ویژن چینل تھا اب پچاس سے زیادہ ہیں۔’میں اس کا کریڈٹ لینا چاہوں گا۔ انتخابات میں اپنے حمایتیوں کی شکست کے بارے میں صدر مشرف نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے ہمدردی کے ووٹ کے علاوہ ملک بجلی، گیس، آٹے کی کمی اور عدلیہ کے بحران نے ان کی حمایتیوں پر منفی اثرات چھوڑے۔ صدر مشرف نےحکومت سازی کے مرحلے میں آصف زرداری یا نواز شریف سےملاقات کے بارے میں کہا کہ حکومت سازی میں ان کاکوئی کردار نہیں ہے۔ ’میں کسی سیاسی جماعت کی سربراہی نہیں کر رہا۔ سیاسی جماعتوں کو مل کر یہ کام کرنا چاہیے لیکن اگر میں کسی موقع پر کوئی کردار ادا کر سکنے کی پوزیشن میں ہوا تو وہ ضرور کروں گا۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اپنے آپکو کو کن الفاظ یاد کرنا پسند کریں گے، تو صدر مشرف نے کہا’ کہ میں نے لوگوں کی صدق دل سے خدمت کی اور میں کامیاب رہا۔‘ |
اسی بارے میں پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’کسی سے اتحاد نہیں کریں گے‘19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||